فرنود عالم
مٹھی کی صبح بہت میٹھی ہے۔ گلی کے ایک کونے میں مسجد کی اذان گونج رہی ہے دوسرے کونے میں مندر کا گھنٹہ بج رہا ہے۔ دونوں عبادت گاہوں سے نکلنے والے نمازیوں اور پجاریوں کے چہروں پر سکون ہے۔ ہندو مسلم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور حال احوال کرکے اچھی انرجی کے ساتھ گھروں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
صبح کے چھ بج رہے ہیں۔ بازار بند ہے۔ سرمئی رنگ کی محرابی سینگوں والی سات خوبصورت گائیں یہاں وہاں بیٹھی جگالی کر رہی ہیں۔ ایک کتا قصاب کے پھٹے کے نیچے اپنے کیوٹو سے بچوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہا ہے۔ سامنے قدیم طرز کے ایک گھر کی ٹنکی پر مور بیٹھا ہے۔ دیسی رنگوں اور مہکوں میں بسا ہوا ایک چائے خانہ کھل رہا ہے۔ جو پہلی چائے بن رہی ہے اسی سے انکی اور میری صبح کا آغاز ہونے والا ہے۔ تین نوجوان سڑک پر پانی کا چھڑکاؤ کر رہے ہیں۔ بازو تک سفید چوڑیاں اور رنگین گھاگرو پہنی کچھ خواتین گزر رہی ہیں۔ پرندے گھونسلوں سے اڑان بھر رہے ہیں اور اب سات بج رہے ہیں۔
بچے بستے لٹکائے خوشی خوشی اسکول جا رہے ہیں۔ میں چائے خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا تیز پتی والی چائے سے طبیعت کی گرہیں کھول رہا ہوں۔ دو پھرتیلے جوان گلاب کے پھول بند چائے خانوں اور دکانوں کے باہر لٹکا رہے ہیں۔ ہر لڑی میں ایک پھول گیندے کا بھی اٹکا ہوا ہے۔
جوان! یہ لٹکانے کا مقصد کیا ہے؟ بھائی یوں سمجھو یہ ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ یہ ہم ہندوؤں کی دکانوں کے باہر لٹکاتے ہیں۔ مگر کچھ مسلمان ہیں جنہوں نے کہا ہے ہماری دکانوں کے باہر بھی رکھ دیا کرو۔ عبادت نہ سہی، روایت ہی سہی۔ یہ کہہ کر جوان اگلی دکان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ میں انکی اجازت سے انکی وڈیو بنا رہا ہوں۔ پورے بازار کو گلاب کرکے ایک جوان واپس میری طرف آتا ہے۔ بھائی جان یہ وڈیوآپ مجھے بھی بھیج دو گے؟ وٹس ایپ نمبر دو مجھے۔ میرے پاس بٹنوں والا فون ہے۔ تو پھر کیسے بھیجوں؟ چائے والے کو بھیج دو اس کے پاس ٹچ والا فون ہے۔
ایک کے بعد ایک دکان کھلتی چلی جا رہی ہے۔ ایک دکان والا پھول چڑھا کر دیوی دیوتا کی آرتی اتار رہا ہے۔ دوسری دکان والا پھول شوکیس پر رکھ کر قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔ صحتمند قصائی گرم لچھے دار پراٹھے کے ساتھ ملائی والی چائے سوڑ رہا ہے۔ پنواڑی صبح کی پہلی گلوری منہ میں رکھ کر اگربتی جلا رہا ہے۔
سندھی رلی سے بنی ٹوپی پہنے ایک ملنگ چلا آتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں صلیبی لکڑی ہے جس پر تین فولادی کٹوریاں اٹکی ہوئی ہیں۔ سفوف کی ایک چٹکی کٹوری میں چھڑکتا ہے اور لوبان کا دھواں سورج کی تازہ سنہری کرنوں میں مل جاتا ہے۔ حق حق کہتا ہوا ملنگ ایک دکان سے دوسری دکان کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہ رلی، اجرک، چادر، شعر، موسیقی، اگربتی اور لوبان میں بندھے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ سائیں لوگ ہیں۔ ان کا علی بھی سائیں ہے وشنو بھی سائیں ہے۔ اللہ بھی سائیں ہے بھگوان بھی سائیں ہے۔ یہ ہر چیز کو مقامی کرکے اپنا لیتے ہیں اور پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یوسف فقیر مندر میں بھگت کبیر کے بھجن گاتا ہے تو مسلمان جھوم اٹھتے ہیں۔ حضرت محمد سائیں کی نعت پڑھتا ہے تو ہندوؤں پرکیف طاری ہو جاتا ہے۔
یہاں چرند پرند الگ سے کوئی مخلوق نہیں ہے۔ یہ انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ لوگ صبح نکلتے ہیں تو گائے کو چارہ ڈالتے ہیں۔ کتوں کو پیار کرتے ہیں۔ پرندوں کے لئے پانی اور دانہ دنکا رکھتے ہیں۔ دسترخوان پہ جوبچ جائے وہ بھی جانور کیلئے الگ کر دیتے ہیں۔
یہ لوگ جانوروں کے آگے ہڈی روٹی اور باجرہ پھینکتے نہیں ہیں، ڈالتے بھی نہیں ہیں، جھک کر وقار کے ساتھ رکھتے ہیں۔ رکھ کر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ یقینا اپنے خدا سے مادری زبان میں کوئی بات کرتے ہیں۔ کہیں یہی وجہ تو نہیں کہ یہاں جانوروں کی آنکھوں میں خوف اور بیگانگی نہیں ہے؟ یہاں کے کتے بلی انسان کو دیکھ کر ڈرتے نہیں ہیں۔ قریب آکر پیار مانگتے ہیں۔
گائے چلتے چلتے کسی بھی گھر میں جھانک لیتی ہے۔ سیوا ہو جائے تو خوب ہے ورنہ جگالی کرتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ کہیں بھی بیٹھ جائے تو ساتھ والے کسی گھر کی مالکن لگتی ہے۔ راستہ لینے کیلئے کوئی اسے لات نہیں مارتا۔ دم نہیں مروڑتا۔ ہش ہش بھی نہیں کرتا۔ خود ذرا سائیڈ سے ہو کر نکل جاتا ہے ورنہ رک کر ایک طرح کی عرضی ڈالتا ہے۔ گائے کہتی ہے، ارے گزر بھی جاؤ میں وہ والی گائے نہیں ہوں۔
تھر والوں کا تو قومی پرندہ بھی مور ہے۔ مور کا حوالہ پلٹنا جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا نہیں ہے۔ مور کا حوالہ گیت ہے، ناچ ہے، رنگ ہے اور روحانی تسکین ہے۔ یہ شاہ لطیف اور سچل سرمست کی شاعری میں بھی ناچتے گاتے ہیں۔ مور یہاں فقیروں کی طرح عام گھومتے ہیں۔ کسی بھی گھر میں تسلی سے گھس جاتے ہیں۔ ہر چیز پہ اپنا حق جتاتے ہیں۔ گھر میں اس کا آنا مبارک ہوتاہے۔ مور مر جائے تو بچے رو پڑتے ہیں اور شاعر اداس ہو جاتے ہیں۔ میں نے بچپن میں ماں جی اور نانی کے قرآن میں مورپنکھ دیکھا تھا۔ پھر مزاروں اور مندروں میں دیکھا۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا۔ کہیں یہ روایت تھرکی تہذیب سے تو نہیں چلی آرہی؟ ہو سکتا ہے۔
وہ رات دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے جب مٹھی میں ہولی منائی جاتی ہے۔ پورا شہرخوشی کے ایک ہی رنگ میں رنگا ہوا ہوتا ہے۔اس رات تارے ستارے زمین پر اتر آتے ہیں۔ یقین نہ آئے تویوٹیوب پردیکھ لیں۔ اس بار ہولی رمضان میں آرہی تھی توہندو یہ رسم رمضان کے احترام میں خاموشی سے ادا کرنے کا سوچ رہے تھے۔ مسلمانوں نے کہا، ارے کھل کرہولی مناؤ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ ہم شریک نہیں ہو پائیں گے۔ ہندوؤں نے کہا، تم نہیں ہوگے تو پھر مزا ہی کیاہے۔ یہ جبر نہیں ہے،یہ بری نظر سے بچی ہوئی سندھو تہذیب ہے۔ اسی تہذیب سے مٹھی کے مسلمانوں نے سیکھا ہے کہ گائے ذبح کرکے کسی کادل نہیں دکھانا چاہیے۔ مٹھی میں بڑے کا گوشت نہیں ملتا۔ واقعی نہیں ملتا۔
یہاں کے چوک چوراہوں پرتوپ طیاروں جیسی خونریز علامتیں نصب نہیں ہیں۔ سڑکوں کےنام ‘غیرت مند’ بزرگوں کے ناموں پرنہیں ہیں۔ ابھی کچھ دیرپہلے جہاں بیٹھ کرچائے پی رہا تھا اس جگہ کا نام مائی بھاگی چوک ہے۔ تھر کی مائی بھاگی سندھ کی نمائندہ سریلی آواز ہے۔لوک گیت ‘ہو جمالو’ یاد ہے؟یہ اصلٔا مائی بھاگی نے گایا تھا۔ اب پرانے مندر کی طرف جانے کیلئے جہاں سے گزر رہا ہوں یہ صادق چوک ہے۔یہ چوک صوفی موسیقار صادق فقیر کے نام سے منسوب ہے۔ اس چوک پر صادق فقیر کی ایک مورتی پورے اہتمام کے ساتھ نصب ہے۔
آگے چلتے جائیں توزندگی کے یہی حوالے ساتھ چلیں گے۔ چلتے ہوئے ایک جگہ اونٹوں کے دو ایسے مجسمے اگر نظر آجائیں جن پر دو بندوق بردار سپاہی بیٹھے ہوں تو اسے سندھ کامزاج مت سمجھیے گا۔ غور سے دیکھیے گا ساتھ ہی کوئی توپخانہ ہوگا۔
مٹھی میں گھومتے ہوئے ناصرکاظمی کی طرح دل کوایک ہی دھڑکا لگارہتا ہے۔ حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں۔اس دھڑکے میں تب شدت آتی ہے جب شہر کے بل بورڈزپر کوئی ایسی تصویر نظر آجائے جو نفرت کی اسپانسرڈ علامت ہو۔ مگر ساتھ ہی ایک تسلی بھی ہوتی ہے کہ یہ سندھ ہے۔ سندھ کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں مگر راستے سیدھے ہوتے ہیں۔ سندھ نفرت کی اسپانسرڈ سرگرمیوں کے خلاف یکجان ہو کر مزاحمت کرتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر شاہنواز کی لاش جلانا چاہے تو رویلو کولہی ساری رات اس کی حفاظت کرتا ہے۔ طاقت اپنا بیانیہ آزماتی ہے اورسندھ اپناسچ آزماتا ہے۔ سندھ کا سچ محبت ہے!!!
بشکریہ: روزنامہ جنگ