جینی علی
اکثر ہمارے بزرگ بیٹیوں کو، خاص طور پر شادی شدہ بیٹیوں کو یہ دعا دیتے ہیں
“خوش رہو، آباد رہو۔”
بظاہر یہ ایک خوبصورت دعا اور نیک خواہش لگتی ہے، مگر ہمارے معاشرتی تناظر میں یہی جملہ آہستہ آہستہ ایک خاموش ہدایت اور دباؤ بن جاتا ہے
چاہے حالات جیسے بھی ہوں، بس نبھاؤ۔
ہم نے لڑکیوں کی تربیت ہی اس طرح کی ہے کہ وہ بچپن ہی سے خود کو پیچھے رکھنا، ایڈجسٹ کرنا اور ہر حال میں خوش دکھائی دینا سیکھ لیتی ہیں۔ خوشی کو خاموشی، برداشت اور قربانی کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ چاہے حق تلفی ہو، جذباتی نظراندازی ہو یا رشتوں کے نام پر نفسیاتی تشددسب کو “خوش رہو” کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔
یوں یہ دعا، آہستہ آہستہ، ایک گہرا معاشرتی اور نفسیاتی دباؤ بن جاتی ہے۔
جب کوئی لڑکی سوال اٹھاتی ہے، اپنی تکلیف بیان کرتی ہے یا انصاف کی بات کرتی ہے تو معاشرہ تو بعد میں بولتا ہے، سب سے پہلے وہ خود اپنے آپ سے سوال کرنے لگتی ہے
“کیا میں ہی غلط ہوں؟ کیا برداشت نہ کر پانا میری ناکامی ہے؟”
یہی وہ لمحہ ہے جہاں پدرشاہی نظام مداخلت کرتا ہےخاموشی سے، مہارت کے ساتھ۔
اس نظام کی ایک سب سے بڑی چال یہ ہے کہ عورت کو اس کی اصل محرومیوں سے ہٹا کر عورت ہی کو اس کا دشمن بنا دیا جائے۔
عورت کو باور کروایا جاتا ہے کہ اس کی تکلیف کا سبب کوئی اور عورت ہے ساس، نند، بھابھی یا کوئی دوسری عورت۔ یوں اصل طاقت اور اختیار رکھنے والے کردار پردے میں ہی رہتے ہیں۔
“عورت عورت کی دشمن ہے” دراصل ایک گھڑا ہوا تصور ہے۔
عورت فطری طور پر ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتی،
اسے دشمن بنایا جاتا ہے۔
عورتوں کو ایک دوسرے کے مدِ مقابل لا کر، انہیں جذباتی اور مادی معاملات میں الجھا دیا جاتا ہےتوجہ، قربانی، مقابلہ، حسد اور موازنہ۔ چونکہ عورت فطری طور پر تعلق اور احساس کی حامل ہوتی ہے، اس لیے وہ اکثر اس باریک کھیل کو سمجھ نہیں پاتی اور نادانستہ طور پر ایک دوسرے کو اپنے دکھوں کا سبب سمجھنے لگتی ہے۔
یوں پدرشاہی نظام اپنی تسکین بھی کر لیتا ہے اور اپنی ذمہ داری سے خود کو بری بھی۔
جب تک عورت کو عورت کے خلاف کھڑا رکھا جائے گا، اصل ناانصافی کبھی سامنے نہیں آئے گی۔
جب بات کی جاتی ہے عورت کو با اختیار بنانے کی توایک بہت بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ عورت کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم عورت کو مردوں کے برابر لانا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ مردوں کی طرح سوچے، عمل کرے، اور زندگی گزارے۔ اس مفہوم میں ایک بہت بڑی کمی یہ ہے کہ بااختیاری کا مطلب کسی کو دوسرے کے برابر لانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہر فرد کو اپنی ذاتی شناخت، حقوق، اور آزادی کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا اختیار ملے۔ عورت کو بااختیار بنانے کا مقصد صرف اس کی خود مختاری اور حق انتخاب کو تسلیم کرنا ہے، نہ کہ اسے کسی دوسرے کے مقابلے میں نیچا یا بلند ثابت کرنا۔
جذبات کو دبانا طاقت نہیں، اپنے جذبات کو پہچاننا اور ان کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل طاقت ہے۔
اب وقت ہے کہ بیٹیوں کو یہ دعا دی جائے
“زندگی میں وہی ہو جوتمہارے حق میں بہتر ہو
وہی ہو جو ایک باوقار، محفوظ اور بامعنی زندگی کے لیے ضروری ہے۔
چاہے وہ راستہ وقتی طور پر کتنا ہی مشکل، سخت یا تکلیف دہ کیوں نہ ہو،”
کیونکہ اصل خوشی انصاف ، اختیار ، خودی کے احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہی ہے۔