کراچی (ویب ڈیسک) طویل عرصے سے جبری لاپتہ سمجھے جانے والے دو سندھی سیاسی و سماجی کارکنان غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کی گرفتاری بالآخر ظاہر کر دی گئی ہے۔
کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) سندھ کی جانب سے یکم نومبر 2025 کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں کو کراچی میں حساس اداروں کے تعاون سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت غنی اللہ عرف غنی امان ولد ودان اللہ چانڈیو اور سرمد رضا ولد افتخار میرانی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے قبضے سے دو عدد ہینڈ گرینیڈ (دستی بم) اور بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے، جبکہ ابتدائی تفتیش میں دونوں نے دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں افراد کے خلاف سندھ کے مختلف اضلاع، بشمول سی ٹی ڈی حیدرآباد، لاڑکانہ اور جامشورو میں پہلے سے دہشتگردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمات درج ہیں۔
سی ٹی ڈی نے دونوں کے خلاف دو نئے مقدمات بھی درج کر لیے ہیں:
مقدمہ نمبر 80/2025، دفعات 3/4 ایکسپ ایکٹ 6/7 ATA، CTD کراچی
مقدمہ نمبر 81/2025، دفعات 3/4 ایکسپ ایکٹ 6/7 ATA، CTD کراچی
اہلخانہ کے سنگین الزامات
تاہم غنی امان کے اہلخانہ نے سی ٹی ڈی کے مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے.
غنی امان کی بہن سندھو امان نے 28 اکتوبر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ منگل کے روز رینجرز اور سول لباس میں ملبوس اہلکاروں نے میمونہ اسپتال کراچی سے ان کے بھائی کو زبردستی حراست میں لیا.
ان کے مطابق، غنی امان کی نوزائیدہ جڑواں بچیاں دو ماہ سے زیرِ علاج ہیں، اور وہ سندھ یونیورسٹی میں لیکچر پروگرام میں شرکت کے بعد اپنی بچیوں کی تیمارداری کے لیے اسپتال آئے تھے، جہاں سے انہیں سب کے سامنے اٹھا لیا گیا.
تنظیم کا ردِعمل
سندھین نیشنل کانگریس کے چیف آرگنائزر محب علی لغاری ایڈووکیٹ نے سی ٹی ڈی کے دعوے کو “ڈھونگ اور کہانی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ
> “غنی امان کو سینکڑوں لوگوں کے سامنے 28 اکتوبر کو میمونہ اسپتال کراچی سے زبردستی اٹھایا گیا، اور اب چند دن بعد ان کی گرفتاری کو دستی بموں سمیت ظاہر کرنا ایک من گھڑت کہانی ہے. ”
انہوں نے کہا کہ سرمد میرانی کو غنی امان کی گرفتاری کے اگلے روز آدھی رات کو کراچی کے سچک گوٹھ سے ان کے گھر سے ہی اٹھا لیا گیا تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ
> “ریاست اس طرح کے حربے استعمال کر کے اپنے وطن اور وسائل کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنان کو زبردستی تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر ہماری جماعت عدم تشدد کی سیاست پر یقین رکھتی ہے. ”
پس منظر اور صورتحال
خیال رہے کہ غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کی جبری گمشدگی پر انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا.
اب سی ٹی ڈی کی جانب سے ان کی گرفتاری ظاہر کیے جانے کے بعد یہ معاملہ جبری گمشدگیوں، انسدادِ دہشتگردی کے قوانین اور ریاستی بیانیے کے مابین ایک نئے تنازع میں بدل گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اہلخانہ اور قومپرست تنظیموں نے اس گرفتاری کو جبری گمشدگی کی تاخیر سے تسلیم شدہ حقیقت قرار دیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.