محمد عامر حسینی
آج ایک بار پھر لاہور پریس کلب کی انتظامیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ دنیا پرست، پیٹ پرست اور دین کو چند کوڑیوں کے بدلے میں فروخت کرنے والے اور مذھب کے نام پر مافیا کی طرح کام کرنے والے ملاؤں اور ان کے مددگار وکلاء کے کالے کوٹ میں ملبوس دین کو مذاق بنانے اور بلاسفیمی کو کاروبار بنانے والے دہنداگیروں، چٹی دلالوں کے یا تو مددگار ہیں یا ان سے ڈرتے ہیں۔ انھوں نے بلاسفیمی گینگ کے ستائے ہوئے والدین کو لاہور پریس کلب میں کانفرنس کرنے کی اجازت دے کر پھر اسے واپس لیکر اپنی بے ضمیری ثابت کردی ہے۔ اور لاہور کی بدنام زمانہ فرقہ پرست صحافت کی نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی روایت کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔
پنجاب کے دل میں شملہ پہاڑی پر بنے لاہور پریس کلب کے اندر بالخصوص اور لاہور کے اکثر و بیشتر پھنے خان بنے صحافیوں کی ایک روایت یہ رہی ہے کہ صحافیوں کے اس ٹولے نے ہمیشہ ایک تو پنجاب میں برسراقتدار حاکموں کی چاپلوسی کی اور ان کے تلوے چاٹے۔ دوسرا یہاں کے اکثر و بیشتر طاقتور صحافیوں نے فرقہ پرست، رجعت پرست، بنیاد پرست اور تنگ نظر ملائیت کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ اس میں صرف جماعت اسلامی کے صحافی شامل نہیں ہیں بلکہ اس میں کئی ایک نام نہاد لبرل اور جعلی بائیں بازو کے صحافی بھی ملوث رہے ہیں۔
نوآبادیاتی دور میں لاہور کا اردو پریس ہو یا ہندی پریس ہو اس پر فرقہ پرستوں، رجعت پرستوں اور بنیاد پرستوں کا قبضہ اور غلبہ رہا۔ یہ ملائیت، براہمن واد اور سکھ بنیاد پرستوں اور فرقہ پرستوں کی مذھبی منافرت کو پروان چڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ تحریک پاکستان کے دوران میاں افتخار الدین کا پاکستان ٹائمز جیسا انگریزی اخبار بھی مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ منافرت کا ترجمان بنا رہا۔
پاکستان بننے کے بعد پنجاب کے اردو پریس پر زیادہ ایسے لوگ قابض رہے جو حکمران مسلم لیگ کی پنجابی جاگیردار اشرافیہ، جماعت اسلامی، خاکسار اور مجلس احرار کی رجعت پرست، تنگ نظر، مذھبی منافرت پر مبنی فکر و نظر سے متاثر تھے۔ اور ساتھ ساتھ یہ اردو پریس پاکستان کی فوجی و سول نوکر شاہی میں موجود رجعت پرست و بنیاد پرست ذہینت کے حامل مسٹر مولاناوں کے پے رول پر بھی رہا۔
پاکستان بننے کے ساتھ ہی لاہور کے اردو پریس کا غالب رجحان یہ رہا کہ یہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی مقبول سیاسی قیادت پر کیچڑ اچھالے۔ ان کی کردار کشی کرے۔ ان صوبوں کی ثقافت اور اس سے جڑے عوام کی تحقیر، تضحیک اور توہین کرے۔ ان کے خلاف ٹیبل نیوز اسٹوریاں چھاپے اور ان کے بارے میں گھٹیا سازشی مفروضے حقائق کے نام سے چھاپ کر انھیں بدنام کرتا رہے۔
لاہور کا اردو پریس خیبرپختون خوا کے باچا خان، ولی خان، ڈاکٹر خان، خدائی خدمتگار تحریک، نیشنل عوامی پارٹی، بنگال کے حسین شہید شہرودری، مولوی فضل حق، مولانا عبدالحمید بھاشانی، دلت لیڈر جوگندرناتھ منڈل، شیخ مجیب الرحمان، مظفر احمد، مونی سنگھ، سکندر سراج کی کردار کشی کرتا رہا۔
اردو پریس نے صوبائی خود مختاری، صوبوں کے اختیارات اور ان کے وسائل پر ناجائز اور غیر جمہوری قبضے کی حمایت کی۔ سندھ کے اللہ بخش سومرو جیسے سیاست دان کا تو تذکرہ اس نے ایسے غائب کیا تھا کہ انھیں پنجاب میں کوئی جانتا تک نہیں تھا۔
جب سندھ کے سیاست دان بشمول مسلم لیگی سیاست دانوں نے کراچی کی سندھ سے علیحدگی کی مخالفت کی تو اردو پریس نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس نے ون یونٹ کی مخالفت اور اس کے خلاف سندھ، خیبر پختون خوا میں چلنے والی مقبول عوامی تحریک کی حقائق پر مبنی کبھی رپورٹنگ نہیں کی۔ اسے زبردستی علیحدگی پسند، ملک دشمن اور بھارت کی سازش بناکر پیش کیا۔
جی ایم سید ہوں، حیدر بخش جتوئی ہوں سندھ کی جتنی عوامی جمہوری قیادت تھی اس نے ان کی انتہائی منفی تصویر پیش کی۔ پنجاب کی رائے عامہ کو گمراہ کیے رکھا ۔
یہ پریس بنگال اور سندھ میں بسنے والے ہندو اور دلت برادری کے خلاف نفرت پھیلاتا رہا۔ اس کا رویہ پنجاب کی مسیحی برادری کے خلاف ہمیشہ معاندانہ رہا۔
پہلے دن سے یہ بائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کی تضحیک، تحقیر اور ان کے خلاف جھوٹا مذھبی تکفیری پروپیگنڈا کرتا رہا۔ اردو پریس کی نظر میں ہمیشہ مذہبی اقلیتیں ایسے ہی قابل نفرت رہے جیسے نازیوں کے نزدیک یہودی تھے یا صیہونیت کے نزدیک فلسطینی اور عرب ہیں۔ ان کے خلاف فسادات اور لوٹ مار، تشدد کو بھڑکانے میں لاہور کے اردو پریس کا کردار بہت بنیادی رہا۔
لاہور کے اردو پریس نےضیاء الحق کے نام نہاد اسلامی جہادی بنیاد پرست نظریات اور فکر کو سب سے زیادہ کوریج دی اور یہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو بھڑکانے میں اہم ترین ہتھیار اور آلے کا کردار ادا کرتا رہا۔ اردو پریس نے جمہوری سیاست، جمہوری سیاسی جماعتوں اور جمہوری سیاست دانوں کے خلاف سب سے زیادہ کردار کشی اور جھوٹ اور من گھڑت قصوں اور طاقتور اداروں کے دیے گئے اسکرپٹ کو تحقیقاتی رپورٹ بناکر چھاپنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
اس پریس نے بنگالیوں کی نسل کشی ہو، بلوچستان کے خلاف ریاستی جبر و استبداد ہو، ضیاء الحق کے دور میں سندھی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم ہوں ہمیشہ حقائق کو چھپایا اور ظالم حکمرانوں کے پروپیگنڈے کو “سچ ” بناکر پیش کیا۔ اس نے سب سے زیادہ فوجی اسٹبلشمنٹ کو مقدس بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ خیبرپختون خوا سے آنے والے کسی چیف منسٹر لاہور کے صحافیوں نے بدتمیزی کی ہو۔ پختون قبائلی غیور عوام پر جنگلی ہونے کی پھبتی کسی ہو۔ انھوں نے یہ سلوک ماضی میں شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ بھی کیا تھا۔ اردو پریس نے ہی بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو کی جعلی فوٹو شاپ ننگی تصویریں اخبارات میں شایع کی تھیں۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب اسی اردو پریس اور الیکٹرانک میڈیا نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے خاندان کی عورتوں کی نازیبا تصویریں شایع کی تھیں اور اسے ملعون اور شاتم رسول بناکر پیش کیا تھا۔
لاہور کے اردو پریس نے کبھی بلاسفیمی کا جھوٹا الزام سہنے والے مظلوموں کے بارے میں سچ شایع نہیں کیا۔ چاہے وہ سلامت مسیح، کرامت مسیح کا کیس ہو یا رمشا مسیح کا کیس ہو، مشعال کا کیس ہو، سری لنکن باشندے کی لنچنگ کا کیس ہو، خانیوال، لاہور اور گوجرہ میں مسیحی بستیوں کو توہین قرآن و احتراق قرآن کے جھوٹے الزامات کی آڑ میں جلائے جانے کے واقعات ہوں اردو پریس کا رویہ متاثرین کے بارے میں نرم سے نرم الفاظ میں ہمیشہ معاندانہ ہی رہا ہے۔ اس نے کبھی ملک شہباز بھٹی سے ہمدردی نہیں کی ۔ کبھی سلمان تاثیر ، ملتان کے راشد الرحمان کے خلاف منافرت انگیز بیانات، جھوٹی ٹیبل اسٹوریاں شایع کرنے سے گریز نہیں کیا۔ آج تک یہ جنید حفیظ کیس میں حقائق سے عوام کو آگاہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔
ویسے تو پاکستان بھر کے پریس کلب، صحافتی تنظیمیں سب کی سب دلال، بروکرز ، بکاو مال گروہوں اور شخصیات کے قبضے میں ہیں لیکن لاہور پریس کلب نے تو انتہا ہی کر رکھی ہے۔
کراچی پریس کلب تو پھر بھی بلوچ، پشتون، مہاجر، سندھی معتوب گروہوں اور ریاستی و غیر ریاستی جبر و استبداد کے شکار لوگوں کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن لاہور پریس کلب نے تو کمزوروں، مجبوروں اور ستم رسیدہ گروہوں اور افراد کی آواز کو خاموش کرانے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔
آج لاہور پریس کلب میں جو ہوا یہ لاہور کے ترقی پسند ، جمہوری ، آزادی صحافت کے علمبردار صحافیوں کے لیے جو اس پریس کلب کے رکن ہیں بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ انھیں لاہور پریس کے صدر ، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدے داران کے اس اقدام پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ان کے ضمیر اور دیانت کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ اگر انھوں نے لاہور پریس کلب کی انتظامیہ کا محاکمہ نہ کیا اور انھیں کہٹرے میں کھڑا نہ کیا ان کی آزادی صحافت کے دعوے بھی کھوکھلے اور جھوٹے ثابت ہوں گے ۔
میں لاہور کے باضمیر صحافیوں سے کہتا ہوں کہ وہ لاہور پریس کلب کی انتظامیہ کے اس حکم کی خلاف ورزی کریں اور متاثرین بلاسفیمی گینگ کو اپنی ہمراہی میں لاہور پریس کلب کے ہال میں لیجاکر پریس کانفرنس کرائیں ۔ یہ ان کے لیے چنداں مشکل بات نہیں ہے۔ وہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں.