ایڈووکیٹ نور محمد مری
ایران کا موجودہ بحران محض ایک داخلی سیاسی یا سفارتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک گہرے اور ہمہ گیر جیوپولیٹیکل خطرے کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق اس بحران کے اثرات خلیج، بحیرۂ عرب، مکران کوسٹ اور جنوبی ایشیا تک پھیلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
عمومی طور پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایران کو براہِ راست تقسیم یا توڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم جدید عالمی سیاست میں ریاستوں کو براہِ راست ختم کرنے کے بجائے انہیں اندر سے کمزور، غیر مؤثر اور کھوکھلا کرنے کی حکمتِ عملی کو زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ یہی ماڈل ماضی میں عراق اور شام میں آزمایا جا چکا ہے، جہاں ریاستی ڈھانچہ بظاہر برقرار رہا مگر اصل طاقت بتدریج ختم ہوتی چلی گئی۔
ریاست کو کمزور کرنے کی مرحلہ وار حکمتِ عملی
اس ماڈل کے تحت پہلے مرحلے میں شدید معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، داخلی سیاسی دباؤ اور سماجی بے چینی پیدا کی جاتی ہے۔
دوسرے مرحلے میں ایسا اقتدار یا حکمران طبقہ ابھرتا ہے جو بظاہر قومی ہوتا ہے مگر فیصلوں میں خودمختار نہیں رہتا۔
تیسرے مرحلے میں نسلی، لسانی اور علاقائی شناختوں کو ابھار کر انہیں محدود اختیارات یا ڈی فیکٹو طاقت دی جاتی ہے، جس سے مرکزی ریاست مزید کمزور ہو جاتی ہے۔
عراق میں کرد علاقوں کی مضبوطی، شام میں مختلف مسلح گروہوں کا ابھار اور لیبیا میں علاقائی ملیشیاؤں کی بالادستی اسی حکمتِ عملی کی نمایاں مثالیں ہیں۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کا سوال
ایران کے تناظر میں اس حکمتِ عملی کا سب سے اہم تزویراتی پہلو آبنائے ہرمز ہے، جسے عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
اگر ایران کسی بھی سطح پر داخلی طور پر غیر مستحکم یا کمزور ہوتا ہے تو آبنائے ہرمز پر اس کی عملی گرفت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں ان عالمی طاقتوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے جو طویل عرصے سے اس گزرگاہ کو بین الاقوامی یا عملی طور پر امریکی بحری کنٹرول میں لانا چاہتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ایران کا اسٹریٹجک دباؤ کم ہو جائے گا بلکہ عالمی توانائی منڈی میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔
مکران کوسٹ: ایک اسٹریٹجک زنجیر
آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ مکران کوسٹ کی جیوپولیٹیکل اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ چاہ بہار، گوادر اور کراچی ایک ہی ساحلی پٹی کے مختلف مگر باہم مربوط حصے ہیں۔
چاہ بہار میں بھارتی سرمایہ کاری، گوادر میں چینی موجودگی اور کراچی کی معاشی و آبادیاتی حساسیت اس پورے ساحلی خطے کو ایک اسٹریٹجک زنجیر بناتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات چاہ بہار کی سکیورٹی، گوادر کی حیثیت اور کراچی کے سماجی و معاشی توازن تک لازماً پہنچیں گے۔
گوادر، چین اور عالمی کشمکش
گوادر چین کے لیے ایک کلیدی تزویراتی اثاثہ ہے کیونکہ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا مرکزی نقطہ ہے اور چین کو بحیرۂ عرب تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔
اگر مکران کوسٹ میں عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے یا وہاں ڈی فیکٹو طاقتوں کو ابھرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس کا ایک مقصد چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ عمل براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے سکیورٹی خدشات، مقامی مزاحمت اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے، جیسا کہ جدید جیوپولیٹکس میں دیکھا جا رہا ہے۔
ایران کے اندر قومیتی تنوع اور ممکنہ اثرات
ایران کے اندر بلوچ، عرب اور کرد قومیتوں کی موجودگی اس پورے منظرنامے میں ایک حساس عنصر ہے۔ ریاست جب مضبوط ہوتی ہے تو یہ گروہ محدود رہتے ہیں، مگر ریاستی کمزوری کی صورت میں وہ گروہ جن کے پاس جغرافیائی تسلسل، سرحد پار روابط یا کسی حد تک تنظیم موجود ہو، نسبتاً زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لیتے ہیں۔
ایران کے بلوچ علاقے جغرافیائی طور پر مکران کوسٹ سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے وہاں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے علاقائی اثرات ناگزیر ہوں گے۔ یہی صورتحال ایران کے عرب اکثریتی اور کرد علاقوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب فوری تقسیم نہیں بلکہ ایک ایسی صورت حال ہو سکتی ہے جس میں مرکزی ریاست محض رسمی حیثیت اختیار کر لے۔
پاکستان، بلوچستان اور تاریخی تعاون
اس بحران کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بلوچستان اور کراچی پر۔ تاریخی طور پر پاکستان اور ایران نے بلوچ تحریک کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران ایران نے پاکستان کو کوبرا ہیلی کاپٹر اور پائلٹس فراہم کیے تھے، جو دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی واضح مثال ہے۔
بدلتے حالات اور نئے خدشات
موجودہ حالات میں اگر ایران خود داخلی دباؤ اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف اس نوعیت کی معاونت کے قابل نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے اندر وہ عناصر بھی کمزور پڑ سکتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت ایران کے سیاسی یا نظریاتی اثر سے وابستہ رہے ہیں۔
ایسی صورت میں بلوچ تحریک کو پاکستان اور ایران دونوں میں نسبتاً زیادہ سیاسی اور عملی گنجائش مل سکتی ہے، کیونکہ ماضی کا دو طرفہ دباؤ کمزور ہو جائے گا۔
کراچی: ایک حساس محاذ
کراچی اس پورے منظرنامے میں ایک نہایت حساس مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر پہلے ہی سیاسی، لسانی اور معاشی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ اگر مکران کوسٹ سے لے کر گوادر اور چاہ بہار تک عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست کراچی تک پہنچ سکتے ہیں۔
بندرگاہی سرگرمیاں، تجارت، اندرونی ہجرت اور سماجی کشیدگی میں اضافے کے باعث کراچی ایک بار پھر علاقائی سیاست کا یرغمال بننے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
یہ بحران اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ریاستوں کو اندر سے کمزور کر کے، معیشت کو مفلوج بنا کر اور سماجی تضادات کو ہوا دے کر مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔
اگر ایران کے ساتھ بھی یہی ماڈل اپنایا گیا تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبنائے ہرمز سے لے کر مکران کوسٹ، گوادر، کراچی اور پورے جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ بظاہر طاقت کے نئے مراکز ابھرتے دکھائی دیں گے، مگر اصل فائدہ بڑی عالمی طاقتوں کو ہو گا، جبکہ مقامی آبادی ایک بار پھر عدم استحکام، تشدد اور غیر یقینی مستقبل کی قیمت ادا کرے گی۔