شیخوپورہ: توہین مذہب کے الزام پر مسیحی شہری کا گھر اور دکان نذرِ آتش، متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور

شیخوپورہ: پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل نارنگ منڈی کے گاؤں گھڑیال کلاں میں توہین مذہب کے الزام پر مشتعل ہجوم نے ایک مسیحی شہری کے گھر اور دکان کو آگ لگا دی، جس کے بعد علاقے کی مسیحی برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کے بعد متعدد مسیحی خاندان جان کے خوف سے اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں منتقل ہوگئے۔

پولیس نے واقعے کے بعد دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں۔ ایک مقدمہ مسیحی شہری کے خلاف توہین مذہب کے الزام میں جبکہ دوسرا مبینہ طور پر جلاؤ گھیراؤ، خوف و ہراس پھیلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مشتعل ہجوم کے افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق متاثرہ شہری پر الزام ہے کہ ان کے ایک واٹس ایپ پیغام سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم کی جانب سے گھر اور دکان کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے میں درج دوسرے مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان زیرِ حراست ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے واقعے کی ویڈیوز، موبائل فونز کی لوکیشن اور عینی شاہدین کے بیانات سے مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مسیحی خاندانوں کی نقل مکانی، پولیس اور رکن اسمبلی کے مؤقف میں فرق

واقعے کے بعد علاقے میں مسیحی خاندانوں کی نقل مکانی سے متعلق متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں۔

پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ علاقے سے مسیحی خاندانوں کی نقل مکانی کی اطلاعات درست نہیں، کیونکہ ضلعی امن کمیٹی اور مسیحی ارکانِ اسمبلی نے بروقت پہنچ کر کشیدگی ختم کروانے میں کردار ادا کیا۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی عمانوئیل اطہر جولیس نے بی بی سی اردو سے گفتگو میں تصدیق کی کہ واقعے کے بعد خوف کے باعث متعدد مسیحی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہوگئے تھے۔

ان کے مطابق متاثرہ شہری کی عمر تقریباً 40 سال ہے اور وہ گاؤں میں دکان چلاتے ہیں۔ عمانوئیل اطہر جولیس نے بتایا کہ توہین کے الزام کے بعد پولیس نے شہری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی حفاظتی تحویل میں رکھا گیا۔

رکن پنجاب اسمبلی کے مطابق کچھ خاندان ہفتے کے روز اپنے گھروں کو واپس آگئے ہیں جبکہ دیگر خاندانوں کو بھی واپسی کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کے بعد علاقے کی صورتِ حال معمول پر آگئی ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی رواداری کو برقرار رکھیں۔

وزیر اقلیتی امور کا مؤقف

پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اڑوڑہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ متاثرہ شہری کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہری کے گھر اور دکان کو آگ لگانے کے واقعے کا الگ مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں انسدادِ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔ ان کے مطابق مقدمے میں نامزد بعض ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں

پاکستان میں توہین مذہب کے الزامات کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے مسیحی آبادیوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔

اگست 2023 میں پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں مشتعل ہجوم نے مسیحی برادری کے گھروں اور گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیا تھا۔ اسی طرح 2013 میں لاہور کے علاقے بادامی باغ کی جوزف کالونی میں توہین مذہب کے الزام کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی شہریوں کے گھروں کو آگ لگا دی تھی۔

گھڑیال کلاں کے واقعے نے ایک بار پھر مذہبی الزامات کے تناظر میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو اجاگر کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں