ایران کے نیشنل سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک

تہران(ويب ڈیسک) ایران کے سینئر سیاستدان اور اسلامی جمہوریہ کے بااثر رہنما علی لاریجانی ایک امریکی۔اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق 67 سالہ لاریجانی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ تہران کے مضافاتی علاقے کے مشرقی حصے میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق علی لاریجانی، جو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ تھے، تہران کے قریب ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوئے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کیٹز نے بھی منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔

علی لاریجانی ایران کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر خاندان کے فرد تھے۔ ان کے کئی بھائی بھی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ریاستی نظام میں اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ لاریجانی کو ایک زیرک اور حقیقت پسند سیاستدان سمجھا جاتا تھا، تاہم وہ ایران کے مذہبی سیاسی نظام کے مضبوط حامی تصور کیے جاتے تھے۔

وہ 1980 کی دہائی میں ایران_عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی اور مختلف ادوار میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل؛ کے سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

علی لاریجانی ایرانی پارلیمان کے رکن بھی رہے اور مسلسل 12 برس تک اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ انہیں ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنہ ای کے قریبی مشیروں میں شمار کیا جاتا تھا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حالیہ حملہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پیش آیا ہے، تاہم اس واقعے پر ایرانی حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے اس سے قبل یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی حالیہ حملوں میں مارے گئے ہیں۔ بسیج فورس ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک رضاکار ملیشیا ہے۔

علی لاریجانی ایران کے طاقتور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں امریکہ اور اسرائیل کا سخت ناقد سمجھا جاتا تھا۔ چند روز قبل انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور اس سے پہلے بھی بڑے مخالفین ایران کو ختم نہیں کر سکے۔

اطلاعات کے مطابق لاریجانی کو آخری بار تہران میں یوم القدس کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں دیکھا گیا تھا۔

ان کی ہلاکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں