میرپور خاص(ویب ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی عدالت میرپور خاص نے عمرکوٹ سول اسپتال کے نوجوان ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے ماورائے عدالت قتل کیس میں مفرور ملزمان کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق کیس کے چار اہم ملزمان — سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) میرپور خاص جاوید سونہارو جسکانی، عمرکوٹ پولیس کے سابق کانسٹیبل لکھمیر خان، سابق ایس ایس پی عمرکوٹ آصف بلوچ کے ریڈر عبد الستار سموں اور کانسٹیبل محمد صدیق — متعدد بار نوٹسز اور اخبارات میں اشتہارات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے بعد نیا حکم
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 29 جولائی 2025 کو ان چاروں کو ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 87 کے تحت اشتہاری قرار دیا تھا۔ تاہم ایک ماہ گزرنے اور 23 اگست کو روزنامہ جنگ، سندھی روزنامہ کاوش اور انگریزی اخبار ڈان میں اشتہارات کی اشاعت کے باوجود وہ عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
مقدمے کے وکیل ایڈوکیٹ میر منگریو کے مطابق عدالت نے اب ان ملزمان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 88 کے تحت کارروائی کا حکم دیا ہے، جس کے تحت مقامی مختیارکار کو نوٹس جاری کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی رپورٹ جمع کرائیں، جس کے بعد مفرور ملزمان کی جائیداد ضبط کی جائے گی۔
ملزم ایس ایس پی کے گھر کا پتہ نہیں مل سکا
کیس کے ایک اور اہم مفرور ملزم، میرپور خاص کے سابق ایس ایس پی کیپٹن (ر) اسد علی چودھری کے خلاف کارروائی ابھی رکی ہوئی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی رہائش کا پتا نہ چلنے کی وجہ سے ان کے گھر پر نوٹس نہ بھیجے جا سکے اور نہ ہی دیواروں پر چسپاں کیے جا سکے۔

اس سلسلے میں عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسد چودھری کے نوٹس لے کر جانے والے اسلام آباد پولیس کے اہلکار کا وڈیو بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
مقدمے کا پس منظر
ستمبر 2024 میں عمرکوٹ پولیس نے ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے اگلے روز سندھڑی پولیس اسٹیشن میرپور خاص نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران مارے گئے۔ تاہم اس واقعے نے شدید تنازع کھڑا کر دیا۔ تدفین کے وقت حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور مشتعل افراد نے ورثا سے لاش چھین کر اسے آگ لگا دی تھی۔
موجودہ صورتحال
ماورائے عدالت قتل کے اس مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے عدالت اب مفرور ملزمان کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور وکلا نے اس پیش رفت کو “اہم سنگ میل” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ماورائے عدالت قتل کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مدد ملے گی۔