لاڑکانہ/سکھر /بدین(انڈس ٹربیون) سندھ کے مختلف اضلاع میں محض دس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں پانچ خواتین سمیت 10 افراد قتل جبکہ چار افراد زخمی ہو گئے۔ قتل کی ان وارداتوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ضلع لاڑکانہ کے ماہوٹہ تھانے کی حدود میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب مسلح افراد نے مبینہ طور پر پرانی دشمنی کی بنیاد پر بند علی مغیری کے گھر پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55 سالہ زرینہ خاتون، ان کے دو بیٹے 36 سالہ ضمیر اور 28 سالہ روشن جبکہ بیٹی صائمہ موقع پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
واقعے میں گھر کے سربراہ بند علی مغیری اور ان کی تین سالہ بیٹی کجلی شدید زخمی ہو گئے جنہیں تشویشناک حالت میں کراچی منتقل کر دیا گیا۔ ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل پر علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی جبکہ مقتولین کی لاشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔
اسی روز لاڑکانہ شہر میں ایک اور افسوسناک واقعے میں باپ نے اپنی بیٹی اور داماد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق فردوس انڑ اپنے شوہر جاوید کورکھانی کے ہمراہ موٹرسائیکل پر عدالت جا رہی تھیں کہ باقرانی روڈ پر اتاترک پل کے قریب ان کے والد پریل انڑ نے ان پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں میاں بیوی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم دورانِ واردات لوگوں کو اسلحہ دکھا کر قریب آنے سے روکتا رہا اور واقعے کے بعد خود تھانے پہنچ کر گرفتاری دے دی۔

لاڑکانہ کے سماجی کارکن فقیر ارسلان کے مطابق مقتول جوڑے کی آٹھ برس قبل شادی ہوئی تھی جبکہ قتل کی وجہ مبینہ طور پر جائیداد کا تنازع تھا۔ ان کے مطابق فردوس انڑ کی والدہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے بیٹی کے لیے رہائش کی جگہ خریدی تھی جس پر ان کے والد کو اعتراض تھا۔ اس معاملے پر سول کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت تھا اور مقتولہ اسی مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت جا رہی تھیں۔
دوسری جانب ضلع شکارپور کے ہمایوں تھانے کی حدود میں دیرینہ دشمنی کے باعث مسلح افراد نے گاؤں شہید آباد پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق بکھرانی برادری کے دو گروہوں کے درمیان کاروکاری کے معاملے پر پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔
فائرنگ کے نتیجے میں عبدالجبار اور آغا بکھرانی جان سے گئے جبکہ ماروی خاتون اور محمد علی بکھرانی زخمی ہو گئے۔
سکھر ڈویژن کے ضلع گھوٹکی میں بھی ایک خاتون کو مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا گیا۔ آندل سندرانی تھانے کی پولیس کے مطابق رونتی کچے کے علاقے میں گاؤں نور محمد شر میں خادم شر نے اپنی حاملہ اہلیہ حمیدہ شر کو فائرنگ کر کے قتل کیا اور بعد ازاں لاش دریائے سندھ میں بہا دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ غوطہ خوروں کی مدد سے خاتون کی لاش کی تلاش جاری ہے جبکہ ملزم فرار ہو گیا ہے۔
ادھر حیدرآباد ڈویژن کے ضلع بدین کی تحصیل ماتلی میں بھی ایک خاتون کو قتل کر دیا گیا۔ ٹنڈو غلام علی تھانے کی حدود میں واقع گاؤں پوڑھو لاشاری میں فہمیدہ نامی خاتون کو مبینہ طور پر چھریوں کے وار کر کے ہلاک کیا گیا۔
مقتولہ کے بھائی غازی جان پٹھان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بہن کو ان کے شوہر موسیٰ پٹھان اور دیگر رشتہ داروں نے قتل کیا، تاہم پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی۔
سندھ کے مختلف اضلاع میں چند گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے ان واقعات نے صوبے میں امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔