سندھ: آندھی اور مٹی کے طوفان سے تباہی، 3 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی، آج سے بارشوں کا امکان

کراچی/سکھر (انڈس ٹربیون) سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والے شدید آندھی اور مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، گھوٹکی اور کشمور میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں ایک بچی سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

گھوٹکی اور گرد و نواح میں تیز آندھی کے باعث درخت، دیواریں اور سولر پلیٹیں گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے۔ اسسٹنٹ کمشنر گھوٹکی کے مطابق مختلف حادثات میں ایک بچی جان کی بازی ہار گئی جبکہ 50 زخمیوں کو تحصیل اسپتال اوباڑو منتقل کیا گیا۔ ڈہرکی اسپتال میں بھی 5 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

کشمور میں آندھی کے باعث مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ادھر ضلع دادو کے سیاحتی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر بھی شدید طوفان کے باعث متعدد ہٹس کی چھتیں اڑ گئیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

محکمہ موسمیات نے سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آج سے 5 جون کے دوران آندھی، گرج چمک اور بارشوں کی پیش گوئی کی ہے

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آج سے 5 جون کے دوران آندھی، گرج چمک اور بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

محکمہ موسمیات کے نیشنل ویدر فورکاسٹنگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرے گا، جس کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدید ہواؤں اور آندھی کے باعث کمزور تعمیرات، کچی دیواروں، بجلی کے کھمبوں، درختوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں ژالہ باری کا بھی امکان موجود ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق موسمی صورتحال کے دوران درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے، تاہم تیز ہواؤں کے باعث روزمرہ زندگی اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ آندھی اور گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں