کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے کم عمر بچوں کے تحفظ کے قوانین پر فوری اور مؤثر عملدرآمد کے لیے وفاقی وزیر قانون کو خط لکھ دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ایک کم عمر مسیحی لڑکی ماریہ شہباز کے مقدمے میں دیا گیا حالیہ فیصلہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین میں موجود سنگین خلا کو ظاہر کرتا ہے۔
خط کے مطابق پاکستان میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ قوانین کم عمری کی شادیوں کو روکنے اور بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں، جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 9، 14، 25 اور 25-اے کے تحت فراہم کردہ حقوق کے مطابق ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ عدالت کے حالیہ فیصلے میں اگرچہ کم عمری کی شادی کو جرم قرار دیا گیا ہے، تاہم نکاح کی قانونی حیثیت کے حوالے سے خاموشی موجود ہے، جس سے قانون میں ایک بڑا خلا سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق اس خلا کو بعض عناصر بچوں کو اغوا کر کے شادی کے نام پر ان کی تحویل حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
خط میں یہ بھی کہا گیا کہ کم عمر بچیوں کی شادی کو بعض اوقات مذہبی اقلیتوں کی لڑکیوں کو اغوا کر کے جبری مذہب تبدیلی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 20 اور 36 کے تحت مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ڈپٹی اسپیکر نے مزید کہا کہ موجودہ قوانین میں صرف بلوچستان چائلڈ میریج ریسٹرنٹ ایکٹ 2025 ایسا قانون ہے جس میں واضح طور پر کم عمری کی شادی کے نکاح کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، اس لیے دیگر صوبوں کے قوانین میں بھی اسی طرز کی ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
خط میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر بلا امتیاز اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان کے بچوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ ہو سکے اور عوام کا ریاستی نظامِ انصاف پر اعتماد مضبوط ہو۔