کراچی(ویب ڈیسک) گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے ایک کیمپ پر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے دہشت گرد حملے میں تین رینجرز اہلکار شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک زخمی حملہ آور، جو افغان شہری بتایا جاتا ہے، کو گرفتار کر لیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے کیمپ کے مرکزی دروازے پر دھماکہ کرکے حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی، تاہم رینجرز اہلکاروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کا حملہ ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین رینجرز اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے تین حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک زخمی دہشت گرد کو گرفتار کر لیا، جس کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی مزید دہشت گرد کی موجودگی کو ختم کیا جا سکے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے “عزمِ استحکام” کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ گروہ حالیہ برسوں میں زیادہ تر خیبر پختونخوا میں سرگرم رہا ہے اور ماضی میں سکیورٹی فورسز، سرکاری اہلکاروں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔
حملے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں گلستانِ جوہر کے علاقے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی حصار قائم کرتے دیکھا گیا، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اور کراچی کے ایڈیشنل آئی جی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور غیر ملکی مفادات کو نشانہ بنانے والے متعدد دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں۔ تاہم حکام کے مطابق حالیہ حملہ گزشتہ کئی برسوں میں ایسا پہلا واقعہ ہے جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے کسی دھڑے نے قبول کی ہے۔