حیدرآباد(انڈس ٹربیون) سندھ ہاری کمیٹی کے زیر اہتمام حیدرآباد میں ہاری تحریک کی شہید رہنما مائی بختاور کی 79ویں برسی کے موقع پر ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی، ادبی اور کسان رہنماؤں نے شرکت کرتے ہوئے شہید مائی بختاور کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کانفرنس میں سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی صدر کامریڈ ثمر حیدر جتوئی سمیت مقررین نے مائی بختاور کو “سرخ سلام” پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کسانوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان قربان کرکے جدوجہد، بہادری اور مزاحمت کی لازوال مثال قائم کی۔
کانفرنس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا کہ اگر 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھ کے ساحل، وسائل، وحدت، جغرافیائی حدود، مالی اختیارات یا دریائے سندھ پر کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ شرکاء نے کراچی کو وفاق کے ماتحت کرنے کی مبینہ کوششوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔
قراردادوں میں سندھ کے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو عوام اور غریب دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ عوام اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
کانفرنس میں سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پنجاب میں لنک کینال کھولنے کے باعث سندھ کو پانی کی کمی کا سامنا ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ کوٹری بیراج سے نیچے دریائے سندھ میں مناسب مقدار میں پانی چھوڑا جائے تاکہ سمندری پٹی، تمر کے جنگلات اور زرعی زمینوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی صدر کامریڈ ثمر حیدر جتوئی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج بھی سندھ کے کسان اور مزدور ناانصافی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاری کارڈ کا اعلان تو کیا گیا مگر اب تک کسی کسان کو اس کا فائدہ نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان زرعی شعبے میں سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں ملتی، جس کے باعث وہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور نئے ٹیکسوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ سندھ میں پانی کی شدید قلت کے باعث زرعی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ثمر حیدر جتوئی نے پیکا آرڈیننس کو آزادی صحافت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے اور میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانفرنس سے معروف لکھاری اور سیاسی رہنما حمیدہ گھانگھرو، عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما کامریڈ نظیر قریشی، طبقاتی جدوجہد کے رہنما ایریس داس، ادیب ادریس جتوئی، سندھ صوفی فورم کے سربراہ ڈاکٹر بدر چنا اور ایڈووکیٹ احمد نواز انقلابی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ شہید مائی بختاور کی قربانی سندھ کے کسانوں اور محنت کش طبقے کے لیے جدوجہد، حوصلے اور مزاحمت کی علامت ہے اور ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔