وفاقی و صوبائی بجٹ مسترد، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی آئین پر حملہ ہے: زین شاہ

حیدرآباد(انڈس ٹربیون) سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی) نے وفاقی اور صوبائی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے فارمولے میں مبینہ تبدیلیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کے حصے میں کمی کرنا صوبائی خودمختاری اور ملک کے آئینی وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئین کے تحت صوبوں کے لیے مقرر 57.5 فیصد حصے کو کسی آئینی ترمیم، قانونی جواز یا صوبائی رضامندی کے بغیر کم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی اخراجات، وفاقی پانی کے منصوبوں اور دیگر حوالوں کو بنیاد بنا کر صوبائی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سید زین شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومتوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بجٹ کے وسائل استعمال نہ کریں، جبکہ مبینہ طور پر ’’سرپلس پول‘‘ کے نام پر وفاقی اکائیوں سے 1.2 ٹریلین روپے سے زائد رقم لینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو مالیاتی شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

ایس یو پی سربراہ نے کہا کہ سندھ کی زمین، دریا، بندرگاہیں اور سمندر عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں، جنہیں ترقی یا سرمایہ کاری کے نام پر نجی اداروں یا غیر منتخب قوتوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سندھ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت سندھ کے آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے تو وہ اپنا اخلاقی اور سیاسی جواز کھو دے گی۔

سید زین شاہ نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی اقدامات کے خلاف مؤثر مزاحمت کی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں