لاہور(ویب ڈیسک) حقوقِ خلق پارٹی کے صدر فاروق طارق نے دعویٰ کیا ہے کہ ورلڈ بینک این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ نظام کو ختم کرکے نیا مالیاتی معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جس سے بالخصوص سندھ اور بلوچستان کے وسائل مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اپنے ایک سیاسی بیان میں فاروق طارق نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کو پہلے ہی این ایف سی ایوارڈ کے تحت ان کا مکمل حصہ نہیں مل رہا، جبکہ سندھ کو اپنے حصے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہو رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں بااثر جاگیردار اور وڈیرے پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس کے باعث عام کاشتکار اور ہاری متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاگیرداری نظام مختلف صورتوں میں سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات پر اثرانداز ہے۔ ان کے مطابق اندرون سندھ میں بنیادی انفراسٹرکچر، صفائی اور صحت و تحفظ کے انتظامات کی صورتحال تشویشناک ہے۔
فاروق طارق نے الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اب تک 2022 کے سیلاب متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے متاثرین کو ایک کمرہ تعمیر کرنے کے لیے تین لاکھ روپے چار اقساط میں دیے جا رہے ہیں، جو ان کے بقول ناکافی ہیں اور اس سے متاثرہ خاندان مزید مالی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے لاکھوں گھروں کی تعمیر کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ فراہم کی جانے والی رقم سے صرف ایک کمرہ تعمیر کیا جا سکتا ہے، جس میں باورچی خانہ اور غسل خانہ شامل نہیں ہوتا۔
فاروق طارق نے کہا کہ سندھ سمیت ملک بھر میں سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے انقلابی معاشی و سماجی پروگرام اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔