کراچی(انڈس ٹربیون) تحریک تحفظ آئین پاکستان سندھ کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے مالی حقوق میں ممکنہ کٹوتی، وفاقی گرانٹس، پیٹرولیم لیوی کی پالیسی اور سندھ کے مفادات کے خلاف ممکنہ آبی منصوبوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین سید زین شاہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، سابق گورنر سندھ زبیر عمر، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرب درانی، ایم ڈبلیو ایم کے علامہ صادق جعفری، حقوقِ عوام پارٹی کے ذیشان ادریس خاصخیلی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔
سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے آئینی حقوق پر حملہ آور ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے وسائل میں کسی بھی قسم کی کٹوتی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مل کر صوبوں کا حصہ کم کرکے وفاق کو غیر معمولی اختیارات دینے کی راہ ہموار کر رہی ہیں، جو وفاقی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی گرانٹس، صوبائی سرپلس اور پیٹرولیم لیوی کے نام پر سندھ کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے جبکہ سندھ کے پانی پر بھی ڈاکہ ڈالنے کی سازش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں سے حاصل کی جانے والی یہ رقوم متنازع آبی منصوبوں اور نئے ڈیموں پر خرچ کی جا سکتی ہیں، جن کا مقصد سندھ کے حصے کا پانی منتقل کرنا ہے۔
سید زین شاہ نے خبردار کیا کہ سندھ پہلے ہی پانی کی قلت، تباہ ہوتے ڈیلٹا اور زرعی بحران کا شکار ہے، ایسے میں مزید آبی منصوبے سندھ کی معیشت اور زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر وفاق نے اپنے فیصلے واپس نہ لیے تو تحریک تحفظ آئین پاکستان سندھ بھر میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کے عوام ایک طرف وفاقی ناانصافیوں اور دوسری جانب پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو 33 ہزار ارب روپے سے زائد وسائل ملے جبکہ مختلف آڈٹ رپورٹس اور مالی بے ضابطگیوں میں 12 ہزار 500 ارب روپے سے زائد کرپشن کے الزامات سامنے آئے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، امن و امان، بلدیاتی خدمات اور زراعت کے شعبوں پر ہزاروں ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق آج بھی 70 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ سرکاری اسپتال بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہیں۔
سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں اور وفاق کے درمیان ایک آئینی معاہدہ ہے اور اس میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 57.5 فیصد وسائل صوبوں کا آئینی حق ہیں اور پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو قابلِ تقسیم محاصل میں شامل نہ کرنا صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرب درانی نے کہا کہ ملک میں بجٹ سازی کا نظام عوامی فلاح کے بجائے طاقتور طبقات کے مفادات کے گرد گھوم رہا ہے جبکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔
علامہ صادق جعفری نے مطالبہ کیا کہ محرم الحرام کے دوران لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
حقوقِ عوام پارٹی کے رہنما ذیشان ادریس خاصخیلی نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اداروں کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے، اس لیے صوبائی اختیارات پر قبضے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر تمام رہنماؤں نے مشترکہ طور پر وفاقی گرانٹس، صوبائی وسائل میں کٹوتی، پیٹرولیم لیوی کی موجودہ پالیسی اور سندھ کے مفادات کے خلاف کسی بھی آبی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر صوبوں کے آئینی حقوق بحال نہ کیے گئے تو بھرپور عوامی، سیاسی اور جمہوری تحریک چلائی جائے گی۔