بُلہڑیجی میں ادبی میلہ، انور پیرزادو کو علمی ادبی خدمات پر زبردست خراج پیش

لاڑکانہ(انڈس ٹربیون) لاڑکانہ کے قریب علمی ادبی گاؤں بُلہڑیجی میں تیسرا انور پیرزادہ میلے کا انعقاد کیا گیا. جس میں ملک کے نامور ادیبوں، شاعروں، محققوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی علمی و ادبی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میلے میں کتابوں کی رونمائی، مختلف سیشنز اور انور پیرزادہ کی ادبی، سماجی اور فکری خدمات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکریٹری اطلاعات و ثقافت مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ وہ ڈان اخبار میں انور پیرزادہ کے سندھ سے متعلق مضامین پڑھ کر متاثر ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا:
“انور پیرزادہ نے بُلہڑیجی جیسے دیہی علاقے میں جو تعلیمی انقلاب برپا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ آج اس گاؤں کی 100 فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے، جو انور کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ایسے ادبی میلے سندھ کے ہر گاؤں میں منعقد ہونے چاہئیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انور پیرزادہ سیاہ کاری (کاروکاری) جیسی رسم کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے عورتوں میں شعور پیدا کرنے اور ادبی سنگت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

معروف دانشور جامی چانڈیو نے خطاب میں کہا:
“انور پیرزادہ عالمی سوچ رکھنے والا انسان تھا۔ وہ شاہ لطیف کی شاعری پر نئی بات سن کر گہرے جذبات میں ڈوب جاتا تھا۔ ایک بار لطیف کی وائی سنتے ہوئے وہ بےاختیار رو پڑا تھا۔”

انہوں نے کہا کہ انور نے پوری سندھ کا سفر کرکے عام لوگوں کی کہانیاں اور مسائل دنیا کے سامنے رکھے۔

نامور ڈرامہ نویس اور ادیبہ نورالہدیٰ شاہ نے کہا:
“انور پیرزادہ نہ صرف بُلہڑیجی بلکہ پوری سندھ کے لیے سایہ دار درخت کی مانند تھا۔ اس نے شاہ عبداللطیف کی شاعری کو نئی تشریحات اور نئے زاویے دیے، روشن خیالی کا پیغام عام کیا، اور شدید مخالفت کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہا.”

ادیب محمد علی پٹھان نے اپنے خطاب میں کہا کہ انور جیسا انسان ہندوستان اور سندھ دونوں جگہ نایاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ انور کو فکری تربیت کامریڈ سوہو گیانچندا‌نی نے دی.

میلے میں مختلف ادبی سیشنز منعقد ہوئے جن کی نظامت امر پیرزادہ، زرار پیرزادہ، زید پیرزادہ، باک پیرزادہ اور سائل پیرزادہ نے کی۔ میلے کے دوران نوجوان شاعروں شاہ محمد پیرزادہ، مسرور پیرزادہ اور امر پیرزادہ کی کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی.

تقریب میں کتابوں، نوادرات اور ثقافتی اشیاء کے اسٹالز بھی لگائے گئے جو شرکاء کی دلچسپی کا مرکز بنے رہے.

اپنا تبصرہ لکھیں