انجنیئر ابھایو خشک
سون دریا کوہ مری کے پہاڑوں سے نکلتا ہے اور تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے غازی بروتھا ڈیم کے مقام پر دریائے سندھ سے جا ملتا ہے۔ اس دریا پر اسلام آباد اور راولپنڈی کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے سمبلی اور خانپور ڈیمز تعمیر کیے گئے ہیں۔ سمبلی ڈیم 260 فٹ اونچا، مٹی سے بنا ہوا بند ہے، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے 30 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ اس ڈیم پر 1962ء میں کام شروع ہوا اور 1983ء میں مکمل ہوا۔ اس میں کل پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 28,750 ایکڑ فٹ ہے جبکہ قابلِ استعمال پانی 19,999 ایکڑ فٹ ہے۔ اس کا کیچمنٹ ایریا 153 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
خانپور ڈیم، اسلام آباد سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ 1984ء میں مکمل ہوا۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 79,980 ایکڑ فٹ ہے۔ سون دریا ایک بارانی دریا ہے، جس میں گلیشیئرز سے بہنے والا پانی برائے نام ہے۔ سون دریا میں 60 فیصد پانی جولائی سے ستمبر کے درمیان مون سون بارشوں کے ذریعے آتا ہے، اور اس میں مٹی (سلٹ) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ڈیمز: پاکستان کی پانچویں “موسم”
سندھ آبپاشی کے سابق سیکریٹری محمد ادریس راجپوت نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ دنیا میں چار موسم ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں پانچ۔ پانچواں موسم “کالا باغ ڈیم” ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پانچواں موسم “ڈیموں” کا ہے۔
ہمارے ہاں یہ عجیب سوچ ہے کہ جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو کچھ مخصوص طبقات کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتے تو ہم یہ پانی ضائع ہونے سے بچا سکتے تھے۔ اور جب بارش کم ہوتی ہے، تب بھی یہی آوازیں اٹھتی ہیں کہ ڈیم ہوتے تو پانی جمع ہوتا۔ یہ وہ “ڈیم مافیا” ہے جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سرگرم ہے۔ یہ مافیا مخصوص طریقے سے کام کرتی ہے اور ہر موقع پر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان عالمی معیار سے کم فی کس پانی رکھنے والا ملک بن جائے گا، اگر نئے ڈیم نہ بنائے گئے۔
2003ء میں جنرل مشرف نے اسی پروپیگنڈے کے تحت کالا باغ ڈیم کے حق میں مہم شروع کی۔ پہلا جلسہ ٹھٹھہ میں رکھا گیا جو شدید عوامی غصے کی نظر ہو گیا، اور جلسے کے منتظمین جان بچا کر فرار ہو گئے۔ اس مخالفت میں سندھ کے مختلف سیاسی کارکن، قوم پرست رہنما اور عوام پیش پیش تھے۔
بعد ازاں مشرف حکومت نے سندھ کی تکنیکی اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو کراچی بلا کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ کالا باغ ڈیم سندھ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ کچھ افراد نے ڈیم کے حق میں بات کی، مگر اکثریت نے مخالفت کی۔ پھر این جی عباسی کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے نثار احمد میمن کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم کی۔
یاد رہے، کالا باغ ڈیم کا منصوبہ سب سے پہلے 1950 میں پیش کیا گیا تھا، اور پھر ضیاء الحق کے دور میں 1985 میں دوبارہ منظر عام پر آیا۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی اور اپنی اسمبلیوں میں قرار دادیں منظور کیں۔
1999ء میں بینظیر بھٹو کی قیادت میں، قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں نے کامون شہید کے مقام پر اور عوامی نیشنل پارٹی نے اٹک پل پر دھرنا دیا اور کالا باغ منصوبے کو دفن کر دیا۔ اس کے باوجود پنجاب آج تک اس منصوبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
ڈیمز سیلاب روک سکتے ہیں؟
کیا واقعی ڈیمز سیلاب روک سکتے ہیں؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 1994 میں 91.86 ملین ایکڑ فٹ اور 2010 میں 54 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گیا۔ اگر 1994 میں کالا باغ ڈیم ہوتا، تو بھی زیادہ سے زیادہ 21 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا تھا، باقی پانی بہرحال سمندر میں ہی جاتا۔
اسی طرح 2010ء میں گڈو بیراج پر 11 لاکھ کیوسک پانی آیا تھا، جس میں ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ کیوسک پانی کوہِ سلیمان سے آیا تھا۔ فرض کریں کہ اس وقت تمام ڈیم آدھے بھرے ہوئے تھے، تب بھی ڈیمز صرف 10 سے 11 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر سکتے تھے۔ باقی کا پانی سیلاب کی صورت میں آنا ہی تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیمز سیلاب سے مکمل بچاؤ نہیں کر سکتے۔
مزید برآں، واپڈا کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں موجود ڈیمز کا پانی ربیع اور خریف کے آخر میں بھی موجود نہیں ہوتا۔ لہٰذا ڈیمز ملکی معیشت میں کوئی قابلِ ذکر فائدہ نہیں دیتے بلکہ معیشت پر بوجھ بنتے ہیں۔
ڈیمز کے نقصانات: انسانی و معاشی تباہی
2022ء کی شدید بارشوں کے باعث، بلوچستان اور پنجاب میں متعدد ڈیمز ٹوٹ گئے جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ 1991ء میں منگلا ڈیم کے اوپر شدید بارش کے باعث اچانک پانی چھوڑا گیا، جس کے نتیجے میں 1000 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ ستلج دریا پر باکھڑا ڈیم میں بھی اسی قسم کا حادثہ ہوا، جس کے بعد مشتعل عوام نے متعلقہ چیئرمین کو گولی مار دی۔
تازہ ترین مثال، 2022ء میں پنجاب میں آٹھ ڈیمز کا ٹوٹنا ہے، جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں 60 افراد جاں بحق ہوئے۔
سون ڈیم: ایک نیا فتنہ
حال ہی میں سون ڈیم کا شوشہ ایک بار پھر اٹھایا گیا ہے۔ 1950 میں اس مقام پر 1.2 ملین ایکڑ فٹ کی گنجائش کے ڈیم کی تجویز پر کام کیا گیا تھا، مگر بعد میں یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا کیونکہ مقام کی زمین اتنا پانی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
اب سون ڈیم کے لیے تجویز دی جا رہی ہے کہ تربیلا ڈیم سے 100 کلومیٹر طویل لنک کینال بنائی جائے جو سون دریا میں پانی لائے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہارو دریا پر بھی 7 ملین ایکڑ فٹ کے اکوڑی ڈیم کی تجویز موجود ہے، جس کے لیے تربیلا سے 40 کلومیٹر طویل لنک کینال تجویز کی گئی ہے۔
سون ڈیم کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے تربیلا پر دباؤ کم ہوگا، اور 38 ملین ایکڑ فٹ کا نیا ذخیرہ وجود میں آئے گا جس سے 32 لاکھ ایکڑ نئی زمین آباد کی جا سکے گی۔
مگر کیا واقعی تربیلا میں اتنا پانی موجود ہے؟ جب کہ اوپر بھاشا اور داسو ڈیم زیرِ تعمیر ہیں اور مزید کئی منصوبے سی پیک کے تحت بننے جا رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ڈیم مافیا کی نظریں انڈس ڈیلٹا میں جانے والے اس پانی پر ہے جسے وہ ضائع سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ پانی ڈیلٹا کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ انڈس ڈیلٹا کو مردہ بنانے کے باعث ملک کو سالانہ دو ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
سون ڈیم: سندھ کے پانی پر ڈاکا
سون ڈیم اور دیگر منصوبوں سے سندھ کو مزید خشک بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اگر اوپر مزید ڈیم اور کینالز بنا دی گئیں، تو سندھ کی حالت افریقی ممالک جیسی ہو جائے گی۔ وہ مشہور تصویر یاد رکھیں جس میں ایک بھوکا بچہ زمین پر لیٹا ہے اور ایک گدھ اس کا منتظر ہے۔ وہ تصویر عالمی سطح پر ایوارڈ جیت گئی تھی، مگر تصویر لینے والے فوٹوگرافر نے بعد میں خودکشی کر لی، کیونکہ وہ بچے کی مدد نہ کر سکا۔
آج ہمارا سندھ بھی اس بچے کی مانند ہے، جبکہ ڈیم مافیا گدھ کی طرح سندھ کی زرخیزی پر نظریں جمائے بیٹھی ہے۔
حل کیا ہے؟
ہمیں سندھ میں 6 نہروں کے خلاف چلائی گئی عوامی تحریک کی طرز پر ایک نئی تحريک کی ضرورت ہے تاکہ وفاقی حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ سندھ پر نئے ڈیم یا کینال بنانے سے باز رہے، اور دریائے سندھ کو آزاد بہنے دے۔
اگر ڈیم نہ ہوں تو زراعت کا کیا ہوگا؟ اس کا جواب ہمیں اُن ممالک سے لینا ہوگا جن کے پاس پانی ہم سے کم ہے مگر زرعی برآمدات زیادہ ہیں۔ ہمیں اُن کے جدید اور کفایتی آبپاشی نظاموں سے سبق سیکھنا ہوگا۔
ہمیں کوئی نئی ایجاد نہیں کرنی، صرف دوسروں کی ایجادات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ بصورتِ دیگر، موسمیاتی تبدیلیاں ہمارا جینا دوبھر کر دیں گی۔
انجنیئر ابھایو خشک ماہر آبپاشی ہیں۔ وہ آبپاشی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں نہری نظام، صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم، ڈیموں کے تنازعات سمیت آبپاشی سے متعلق موضوعات پر تین کتابیں لکھی ہیں، جن میں “سنڌ-پنجاب پاڻي مامرو”، “سنڌو جو رستو نه روڪيو” اور انگریزی میں “Hydro Politics in Pakistan” شامل ہیں۔ ان کا یہ کالم دو روز قبل سندھی روزنامے “پنھنجي اخبار” میں شایع ہوا تھا۔ دی انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے ان کا یہ کالم اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔