یوم آزادی اشتہارات میں قائداعظم کی تصویر غائب، سینیٹ میں احتجاج

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کے 78ویں یو آزادی پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں تقریبات اور اخبارات میں خصوصی سرکاری اشتہارات جاری کیے گئے، تاہم ان اشتہارات میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تصویر نہ ہونے پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید سامنے آئی۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اشتہارات میں صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سمیت دیگر شخصیات کی تصاویر تو شامل ہیں، مگر جناح اور قومی شاعر علامہ اقبال کی تصاویر غائب ہیں۔

یہ معاملہ 15 اگست کو سینیٹ اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا، جہاں اپوزیشن اراکین نے حکومت پر عوام کے پیسوں سے جاری ہونے والے اشتہارات میں تاریخی قومی شخصیات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید اجلاس کے دوران قائداعظم کی تصویر تھامے کھڑے ہوئے اور کہا:
یہ اشتہار ذاتی رقم سے نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے لگایا گیا، مگر اس میں اس ملک کو بنانے والے کی تصویر تک نہیں ہے۔”

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس معاملے پر تحقیقات کا اعلان کیا، جبکہ اپوزیشن بینچوں پر موجود بعض ارکان اجلاس میں جناح کی تصاویر اٹھائے احتجاج کرتے رہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ اشتہار میں قائداعظم کی تصویر شامل نہ کرنے کے معاملے پر انکوائری ہوگی اور اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا:
“جشن آزادی کے موقع پر مختلف محکمے، تنظیمیں، سرکاری و غیر سرکاری ادارے اشتہارات دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو یہ میری اور ہم سب کی دل آزاری ہے۔ ہم اس تصویر کے نیچے بیٹھ کر اپنی کارروائی چلاتے ہیں اور ان کی سیاسی میراث کو سنبھالے ہوئے ہیں۔”

اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ تقریبات کا آغاز جناح اسٹیڈیم سے ہوا جہاں تمام سیاسی رہنما اکٹھے تھے۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:
“اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں، مگر ہم سب بانی پاکستان کے پیروکار ہیں اور پاکستان ان ہی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ ہم قائداعظم سے منسوب جگہوں پر حملے کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔”


اپنا تبصرہ لکھیں