سید منور عالم- امریکہ
خاور حسین 16 اگست کی دوپہر ایک بجے کے بعد اچانک کراچی سے سانگھڑ کیلئے روانہ ہوا۔ تقریبا دو بجے اپنی بیوی سے گھر پر بات ہوئی اور خاور نے انہیں بینک اکاوئنٹ سے کچھ رقم بھی ٹرانسفر کی، خاور گاڑی تیزی سے چلاتا جا رہا تھا شام تقریبا پانچ بجے وہ سانگھڑ میں داخل ہوا۔
خاور حسین کے دوست کے ایم عباسی کے مطابق خاور چھٹی کا دن بچوں کے ساتھ گزارتا تھا اور دوستون یا رشتہ داروں کو بلکل وقت نہیں دیتا تھا وہ اپنے بیٹوں کو وقت دیتا مگر چھٹی کے دن اچانک اسکا بغیر بتائے سانگھڑ نکل جانا سمجھ نہیں آرہا تھا۔
خاور حسین نے ایک قریبی دوست کو تین بجے کال کر کے بتایا کہ سانگھڑ میں اس کی بہن کے گھر مجلس ہے وہاں جارہا ہے، مگر خاور مجلس میں نہیں پہنچا۔
سانگھڑ میں داخلہ اور جس جگہ خاور نے خودکشی کی اس جگہ پر پہنچنے میں تقریبا تین گھنٹے کا فرق ہے یعنی خاور نے تین گھنٹہ سانگھڑ شہر میں گذارے۔ مگر پولیس اب تک یہ معلوم نہیں کرسکی کہ خاور تین گھنٹوں تک کہاں رہا۔
کرائم سین پر موجود ایس ایچ او، سب انسپکٹر سے بات ہوئی جو کرائم سین میں نے دیکھا اور جو معلومات مجھے ملی آپ سے شیئر کر رہا ہوں
ساتھ سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافیوں سے بھی گفتگو ہوئی۔
خاور حسین رات تقریبا آٹھ بج کر بیس منٹ پر ہوٹل کی پارکنگ میں پہنچا اور گاڑی میں ہی بیٹھا رہا، اس دوران وہ فون پر لگا رہا کبھی میسج تو کبھی کال، پھر وہ نو بج کر بیس منٹ پر گاڑی سے باہر آیا ہوٹل کے کاونٹر پر اس نے مینجر سے باتھ روم کا پوچھا۔ باتھ روم گیا، واپس آیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا تقریبا دس بجکر آٹھ منٹ پر گاڑی سے دوبارہ باہر آیا اور پھر باتھ روم گیا۔ مینجر کے مطابق خاور حسین وضو کرکے باہر آیا اور گاڑی کی جانب چلا گیا تقریبا دس بجکر پنتالیس منٹ پر مینجر نے اپنے نوکر سے کہا کہ باہر جاؤ گاڑی میں جو بندہ بیٹھا ہے اس سے آرڈر لے لو بہت دیر ہوگئی ہے۔ جب نوکر باہر گاڑی کے پاس آیا تو گاڑی میں خاور کی گولی لگی لاش تھی اور خون بلکل تازہ تھا.
لاش کے ملنے کے بعد اور خودکشی کا پہلو
ہوٹل ملازم نے جب گاڑی میں لاش دیکھی تو فورا بھاگ کر مینیجر کو بتایا، ہوٹل مینجر نے باہر آ کر لاش دیکھی اور فورا پولیس کو اطلاع دی، ساتھ ہی صحافیوں کو بھی فون کردیا، پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی ہوٹل کے عملہ اور صحافیوں نے نا صرف گاڑی کا دروازہ کھول لیا بلکہ گاڑی کی تلاشی بھی لے ڈالی۔ پولیس ہیڈ کانسٹیبل اور ایک سپاہی سب سے پہلے ہوٹل پہنچے اور ساتھ ہی ایس ایچ او سانگھڑ بھی موقع پر پہنچ گئے ۔
کرائم سین
خاور حسین کی گاڑی اسٹارٹ تھی اور ایئر کنڈیشنر چل رہا تھا، خاور حسین ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھے سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھی، سیدھے ہاتھ کی جانب کنپٹی پر گولی کا نشان تھا اور اور سر چھت کی جانب تھا گولی دوسری جانب سے نکل چکی تھی، سیدھا ہاتھ دونوں ٹانگوں کے درمیان تھا اور پستول ہاتھ میں موجود تھا، تمام خون اندر ہی موجود تھا۔ فون کا چارجر لگا ہوا تھا۔

خود کشی کیسے ثابت ہے؟
1. تفتیشی ایس ایچ او کے مطابق خاور حسین کے گاڑی بند تھی اور کئی گھنٹوں سے اسی جگہ موجود تھی
۔2 باہر سے گولی چلنے کے کوئی شواہد موجود نہیں نہ ہی کوئی حملہ آور آیا نہ باہر سے گولی چلی۔
3۔ قاتل اگر کولی چلاتا تو شیشہ ٹوٹتا جو نہیں ٹوٹا۔
4۔ سیٹ بیلٹ کی وجہ سے خاور حسین گولی کے جھٹکے سے بائیں جانب دوسری سیٹ پر نہیں گرے۔ بلکہ انکا سر جھٹکا کھا کر اوپر کی جانب چلا گیا۔
5۔ خود کشی میں لمحات میں جان نکل جاتی جس کی وجہ سے پستول والا ہاتھ سائیڈ دروازے سے ٹکرا کر گود میں آگیا اور انگی کی گرفت نے پستول نہیں گرنے دیا۔
6۔ گولی کا خول گاڑی کے اندر ہی موجود تھا جس سے واضح ہے کہ کوئی باہر سے فائر نہیں ہوا۔
7۔ خون کا کوئی نشان گاڑی کے باہر نہیں تھا جس سے یہ بھی واضح ہے کہ کسی اور جگہ مار کر لاش کو یہاں نہیں لایا گیا۔
پولیس کے مطابق شواہد اور گواہوں کے مطابق یہ سو فیصد خو کشی ہے۔
چار گھنٹوں تک خاور سانگھڑ میں کیا کرتا رہا؟
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ خاور نے خودکشی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی۔ چار گھنٹوں کے دوران خاور حسین نے کئی جگہ گاڑی گھمائی جس میں شہر کے مختلف حصہ ہیں۔ وہ آبائی گھر کے سامنے گیا، پھر اپنے اسکول اور شہر کے بازار میں گھوما، جہاں جہاں اس کی کوئی یاد تھی۔
کچھ گھنٹے ابھی تک تاریکی میں ہیں جو آئندہ تفتیش میں کھلیں گے۔
خاور حسین کے پاس دو فون تھے جس میں دو سمیں تھیں جب کہ ایک آئی فون تھا۔ خاور حسین نے سانگھڑ پہنچے کے بعد سب سے پہلے اپنے اینڈرائیڈ فون سے اپنی ای میل، گوگل، اور تمام بیک اپ اکاوئنٹ کو ڈیلیٹ کیا جو جو ڈیٹا جہاں جہاں تھا وہ سب اکاوئنٹ اڑا دیئے اور پھر اپنا انڈرائیڈ فون بند کرکے کہیں پھینک دیا جس کی تلاش جاری ہے۔
اب آئیے آئی فون کی جانب، خاور حسین نے اپنا آئی فون ڈیٹا نہ صرف ڈیلیٹ کیا بلکل فون بھی فریش مار دیا یعنی اب آئی کلاوڈ تک رسائی پولیس کے لئے ناممکن ہوگئی ہے، یوں خاور حسین جاتے جاتے بھی سینکڑوں لوگوں کی عزتیں بچا گیا وہ ایک اچھے دل جوان تھا۔
اب رہ گئی وجہ ، امریکہ میں مقیم خاور حسین کے بڑے بھائی اور والدہ نے سانگھڑ پولیس کو لاش کے پوسٹ مارٹم سے منع کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ خاور حسین کا خاندان اس کی خودکشی کی وجہ سے بخوبی واقف ہے اور سب کچھ جانتا ہے خاور حسین کے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا؛
” منور بھائی! میرا بھائی چلا گیا میں اس کو اتنا بزدل نہیں سمجھتا تھا ہاں مگر عزت کے خوف نے اس کو خودکشی پر مجبور کردیا میں جانتا ہوں وہ کیوں گیا “۔
خاور حسین کی خودکشی کے عوامل جاننے کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس کے انچارج ایڈیشنل آئی جی آزاد خان ہوں گے۔ مزید تحقیقات میں اب صرف خودکشی کے عوامل کا سامنے آنا باقی ہے شاید کبھی مکمل معلومات سامنے بھی نہ آ سکیں۔
