“آرمی چیف نے کسی صحافی کو انٹرویو نہیں دیا, صحافی نے ذاتی تشہیر کیلئے غلط رنگ دیا “: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی طرف سے کسی صحافی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سہیل وڑائچ کے کالم میں جس گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے وہ دراصل برسلز میں ایک عوامی تقریب تھی جہاں سیکڑوں افراد نے آرمی چیف کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ ان کے مطابق “اس ایونٹ میں نہ تو پی ٹی آئی کا ذکر ہوا اور نہ ہی معافی کا۔”

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ “یہ محض ایک صحافی کی ذاتی تشہیر کی کوشش ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سینئر صحافی ہو کر بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے ذمہ داران اور ان کے سہولت کار قانون کے مطابق کٹہرے میں آئیں گے۔

بھارت سے متعلق ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ “بھارت کا خیال تھا کہ دہشت گرد پراکسیز اور دیگر ذرائع سے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکتا ہے اور پاکستانی فوج کو بدنام کرنا آسان ہوگا، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور بھارت خود عالمی سطح پر ڈس کریڈٹ ہوا۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی منصوبوں میں یہ تصور بھی شامل تھا کہ ایک طرف سے بھارت اور دوسری طرف سے دہشت گرد گروہ بیک وقت حملہ آور ہوں، مگر پاکستانی فورسز نے دونوں محاذوں پر مقابلہ کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “گورننس کے خلا کو فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔ پاکستانی نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔”

یاد رہے کہ حال ہی میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں دعویٰ کیا تھا کہ برسلز میں آرمی چیف نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ “سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے” اور یہ کہ وہ صرف ملک کے محافظ ہیں، کسی اور عہدے کی خواہش نہیں رکھتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں