اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے “قومی دریا اتھارٹی” (National River Authority) کے قیام کا خیال پیش کیا ہے۔ قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے اس تجویز پر وزارتِ آبی وسائل سے باضابطہ رائے اور سفارشات طلب کی ہیں، تاکہ پائیدار ترقی کے لیے ایک نئی واٹر ریگولیٹری باڈی کے قیام پر غور کیا جا سکے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے وزارتِ آبی وسائل کو ارسال کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ:
> “ضرورت ہے کہ وزارتِ آبی وسائل قومی دریا اتھارٹی کے قیام سے متعلق اپنے خیالات اور تبصرے فراہم کرے، تاکہ وزیراعظم اس پر عملدرآمد کے حوالے سے فیصلہ کرسکیں۔”
تحفظات اور اعتراضات
وزارتِ آبی وسائل کے ایک سینئر ذریعے نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی دریا اتھارٹی دراصل انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) کے اختیارات محدود کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔
ان کے مطابق:
> “IRSA ایک متفقہ اور قانونی طور پر تشکیل شدہ واٹر ریگیولیٹر ہے، اس کے متوازی ایک نئی اتھارٹی بنانا غیر منطقی عمل اور دراصل IRSA کے دائرہ اختیار پر قبضہ ہے۔”
ذرائع نے مزید کہا کہ اس اقدام سے صوبائی خودمختاری میں مداخلت ہوگی اور یہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 55 کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔
ان کے بقول، اٹھارہویں ترمیم کے بعد پانی سے متعلق اختیارات صوبوں کو منتقل ہوچکے ہیں، اور وفاقی حکومت اکیلے اس نوعیت کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔
آئینی تقاضے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وفاق نئی واٹر باڈی قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے کاؤنسل آف کامن انٹرسٹس (CCI) میں پیش کرنا ہوگا۔
آئین کے آرٹیکل 55 کے مطابق اگر کسی انتظامی یا قانون سازی کے اقدام سے کسی صوبے یا اس کے رہائشیوں کے مفادات متاثر ہوں تو متعلقہ حکومت تحریری طور پر CCI سے رجوع کرسکتی ہے۔
IRSA کا قیام اور 1991 کا معاہدہ
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی 1991 کے واٹر ایپورشنمنٹ ایکارڈ (WAA) کے نتیجے میں قائم کی گئی تھی۔
اس معاہدے کی شق 13 میں واضح کیا گیا تھا کہ
> “معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ایک انڈس ریور سسٹم اتھارٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں تمام چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی۔”
ذرائع کے مطابق، اس وقت یہ بھی واضح نہیں کہ نئی قومی دریا اتھارٹی کس قانونی یا معاہداتی بنیاد پر قائم کی جائے گی۔
وفاقی مداخلت کی سابقہ کوشش
یہ پہلا موقع نہیں کہ وفاقی حکومت نے IRSA کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش کی ہو۔
فروری 2024 میں نگراں حکومت نے IRSA ایکٹ 1992 میں ترمیم کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا، جس کے ذریعے وفاق کو صوبوں پر اضافی اختیارات دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
اصل ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت چیئرمین کی نامزدگی صوبائی بنیاد پر گردش کرتی تھی، مگر ترمیم کے بعد یہ اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا کہ وہ وفاقی ملازم کو چیئرمین مقرر کریں، جو BPS-21 یا اس سے اوپر کے عہدے پر فائز ہو۔
اس ترمیم پر صوبوں، بالخصوص سندھ اور بلوچستان نے سخت احتجاج کیا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے مارچ 2024 میں ایک ریٹائرڈ افسر کی بطور چیئرمین تقرری صرف 24 گھنٹے کے اندر واپس لے لی تھی۔
پانی پر پہر تنازعے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق نئی قومی دریا اتھارٹی کا قیام ملک میں پانی کے انتظام کے نظام میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کرسکتا ہے۔
پانی پہلے ہی پاکستان میں صوبائی اختلافات کا ایک حساس موضوع ہے، اور اگر وفاق نے بغیر مشاورت کے نیا ادارہ قائم کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت سیاسی اور آئینی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔