مریدکے: تحریک لبیک کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن، پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق، ٹی ایل پی کا سعد رضوی سمیت متعدد کارکنان کو زخمی کرنے کا الزام

مریدکے (نمائندہ خصوصی) — پنجاب پولیس کے مطابق مریدکے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کو منتشر کر دیا گیا۔ آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 56 بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق زخمیوں میں 48 اہلکار شامل ہیں جن میں سے 17 کو گولیاں لگیں، جبکہ ایک شہری اور تین مظاہرین بھی ہلاک ہوئے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مظاہرین نے آپریشن کے دوران پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کا استعمال کیا اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا۔ مظاہرین نے تقریباً 40 سرکاری اور نجی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔

پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق مریدکے کے مرکزی علاقے مظاہرین سے خالی کرا لیے گئے ہیں اور حالات پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز پیش قدمی کر رہی ہیں۔

جبکہ ٹی ایل پی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ پولس نے ان کے کارکنان پر سیدھی گولیاں چلائی ہیں جس میں سعد رضوی سمیت متعدد رہنما اور کارکن شدید زخمی ہو گئے ہیں تاہم حکام نے ان الزمات کی تصدیق نہیں کی.

دوسری جانب، آپریشن کے خلاف لاہور اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

لاہور میں وکلا کے ایک دھڑے نے ضلعی عدالتوں کے باہر پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور بعض پولیس اہلکاروں پر تشدد بھی کیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے عدالت سے پیچھے ہٹنے میں ہی عافیت جانی۔

کراچی کے علاقے نیو کراچی میں بھی تحریک لبیک کے کارکنوں نے احتجاج اور سڑکوں پر پھراؤ کیا۔ پولیس نے شیلنگ کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کے مطابق نیو کراچی کے مختلف مقامات سے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں صورتحال قابو میں ہے، ٹریفک بحال کر دی گئی ہے اور ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں