“کمیونسٹ پارٹی جب سیاسی نظریے سے ہٹ کر عقیدت کی جماعت بن گئی تو وہ ٹوٹ گئی” سکھر میں منصور میرانی کی برسی تقریب

سکھر (رپورٹ: تاج رند) جاگرتا فورم سکھر کے زیرِ اہتمام آرٹس کونسل سکھر میں معروف شاعر، ادیب، صحافی اور انقلابی رہنما کامریڈ غلام قادر “منصور” میرانی کی چوتھی برسی پر پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا. تقریب میں سندھ بھر سے دانشوروں، ادیبوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامور ادیب حمید سومرو نے کہا کہ “کمیونسٹ پارٹی جب سیاسی نظریے سے ہٹ کر عقیدت کی جماعت بن گئی تو وہ ٹوٹ گئی. غیر سائنسی تجزیات نے پارٹی کو پست کیا. اسی کی دہائی میں کہا گیا کہ انقلاب قریب ہے، مگر ثابت ہوا کہ وہ تجزیہ زمینی حقائق کے برعکس تھا. ” انہوں نے مزید کہا کہ “منصور میرانی کا مشہور گیت ‘باکھ فھٹے تھی (صبح ہونے والی ہے) ’ آج بھی نیم آمریت کی سیاہ راتوں میں حوصلہ بخشتا ہے۔”

معروف ادیبہ حمیدہ گھانگھرو نے کہا کہ “ڈاکٹر نظیر عباسی کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی نے نظریاتی سیاست کی بنیاد رکھی، مگر ان کے بعد پارٹی ٹوٹ گئی. جام ساقی جیسے رہنما پیپلز پارٹی میں گئے، لیکن ان کے آخری وقت میں بھی ساتھ دینے والے کمیونسٹ کامریڈ ہی تھے. ”

سینئر صحافی منظور سولنگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہم جن رہنماؤں کی قسمیں کھاتے تھے وہی نظریات سے پیچھے ہٹ گئے. رہنماؤں کی موقع پرستی نے تحریک کو نقصان پہنچایا. ” انہوں نے انکشاف کیا کہ “کامریڈ حیدر بخش جتوئی کو صرف ‘جئے سندھ’ کا نعرہ لگانے پر کمیونسٹ پارٹی سے نکالا گیا.”

صاحبزادی سومل میرانی نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ “وہ سچے نظریاتی کامریڈ تھے، اصولوں کے پکے اور اپنے نظریے سے کمپرومائز نہ کرنے والے۔ انہوں نے ہمیں آزادانہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کی تربیت دی.”

بزرگ صحافی سہیل سانگی نے کہا کہ “منصور میرانی نے مزدوروں اور مظلوم عوام کے لیے ساری زندگی جدوجہد کی. ان کی تحریریں وطن پرستی اور انسان دوستی سے بھرپور ہیں. ان کا مشن وقتی طور پر کمزور ضرور ہوا ہے مگر کبھی ختم نہیں ہوگا. ”

جاگرتا فورم کے چیئرمین ڈاکٹر غلام رسول گھمرو نے صدارتی خطاب میں کہا کہ “منصور میرانی نے جدید اور سائنسی فکر کو فروغ دیا. وہ آخری سانس تک اپنے نظریے کے ساتھ کمیٹیڈ رہے. ”

پروفیسر سرور سیف، صحافی ممتاز بخاری اور ایڈووکیٹ سچل بھٹی نے بھی اپنے خطاب میں منصور میرانی کی علمی و ادبی خدمات، انقلابی شاعری اور عوام دوست نظریے کو خراجِ تحسین پیش کیا.

تقریب کے اختتام پر معروف گلوکار حنیف لاشاری نے محفلِ سماع میں منصور میرانی کے انقلابی کلام پیش کر کے شرکا سے خوب داد وصول کیا.

تقریب سے فیض سومرو، ڈاکٹر ادل سومرو سمیت متعدد ادیب اور شاعروں نے بھی خطاب کیا.

اپنا تبصرہ لکھیں