محبوب انصاری
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہے۔ کاروباری حلقے، چند میڈیا گروپس اور بڑے شہروں کے ممتاز افراد اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک کی ترقی چھوٹے صوبوں کے بغیر ممکن نہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان کے مسائل، غربت، صحت، تعلیم اور بے روزگاری کی بڑی وجہ صرف چار صوبوں کا نظام ہے، اس لیے ملک کو تیس یا اس سے زیادہ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی تعداد بڑھانے سے یہ مسائل واقعی ختم ہو جائیں گے، یا یہ ایک اور نعرے کی طرح ہمارے سیاسی و سماجی زخموں پر اچھلتی ہوئی نمک پاشی بنے گا؟
یہ بحث بظاہر غیر سیاسی انداز میں پیش کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں، ہم صرف عوامی رائے قائم کر رہے ہیں۔ لیکن یہ گفتگو بند دروازوں کے پیچھے کاروباری شخصیات، بااثر افراد اور طاقتور حلقوں کے نمائندوں کے ساتھ ہوتی ہے، نہ کہ عوام کے ساتھ۔ اس لیے اسے غیر سیاسی کہنا خود ایک سیاسی بیان ہے۔ عوامی رائے ٹی وی اسکرینوں سے نہیں بنتی، نہ یہ ڈرائنگ روموں میں کی جانے والی تقریروں سے جنم لیتی ہے۔ عوامی رائے گلیوں، اسکولوں، دیہاتوں، مزدور بستیوں اور پسماندہ شہروں سے بنتی ہے، جہاں ریاست آج تک بنیادی سہولت فراہم نہیں کر سکی۔
ہمارے مسائل کی تشخیص درست ہے۔ پاکستان میں تعلیم زبوں حال ہے، صحت کے بجٹ پر افسوس کیا جاتا ہے، ساڑھے دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ لیکن کیا ان مسائل کا حل صوبوں کی تعداد بڑھانا ہے؟ یا یہ مسائل ناقص حکمرانی، غیر شفاف وسائل، کرپشن، طبقاتی نظام اور اختیارات کے ارتکاز سے پیدا ہوئے؟ یہ وہ سوال ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے جواب کو بدلنے کے لیے نظام بدلنا پڑتا ہے۔ اور اقتدار کے ایوان کبھی اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتے، البتہ نقشے ضرور بدل دیتے ہیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ صوبے نہیں بلکہ اختیارات کا مرکزیت پسند ڈھانچہ ہے۔ جب تک اختیارات ضلع اور تحصیل تک نہیں پہنچیں گے، چاہے ہم 4 صوبے رکھیں یا 33، ہر صوبہ ایک چھوٹے بادشاہت میں بدل جائے گا۔ جس طرح ایک وزیر اعلیٰ صوبے کا مطلق حکمران سمجھا جاتا ہے، اسی طرح 33 وزیر اعلیٰ بھی چھوٹے مطلق العنان حکمران بنیں گے۔ اگر آج ایک صوبہ فنڈ نگل جاتا ہے تو کل 33 ایسا کریں گے۔ اس سے نہ سزا ملے گی نہ شفافیت پیدا ہوگی، بس کرسیوں کا اضافہ ہوگا اور عوام کے پیسے پر مزید عیاشیاں۔
نئے صوبوں کے حامی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بھارت میں ریاستیں بڑھیں تو گورننس بہتر ہوئی۔ لیکن اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے کہ بھارت نے صوبے بنانے سے پہلے مقامی حکومتوں کو انتہائی طاقتور بنایا۔ تعلیم، صحت، پولیس، پانی، ٹیکس، سب اختیارات تحصیل اور ولیج کونسلوں تک منتقل کیے گئے۔ اسی طرح چین میں بھی ترقی کا راز انتظامی تقسیم سے پہلے مضبوط مقامی ادارے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں بلدیاتی نظام صرف آمریت میں آتا ہے اور جمہوریت کے آتے ہی اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔
کراچی کی مثال بھی اسی سیاست کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی کو اس کا حصہ نہیں ملتا، اس لیے اسے الگ صوبہ چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کے مسائل کا حل سندھ سے الگ ہونا ہے یا سندھ میں وسائل کی شفاف تقسیم؟ کیا کراچی کے بچے، پسماندہ سندھ کے بچوں سے الگ نصیب رکھتے ہیں؟ کیا کراچی کے ہسپتالوں کی حالت بہتر ہے؟ کیا کراچی کے اسکول مثالی ہیں؟ کیا کراچی کے اندر ویسے ہی غریب آبادیاں نہیں جیسے تھر، دادو، ٹھٹھہ یا بدین میں ہیں؟
کراچی الگ صوبہ نہیں چاہتا، کراچی انصاف، شفافیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتا ہے۔ کراچی سندھ کا سرمایہ ہے، اور سندھ کراچی کی شناخت ہے۔ ان دونوں کو الگ کرنا قومی وحدت نہیں، سیاسی کھنچاؤ اور لسانی تصادم پیدا کرنے کی کوشش ہے، جس کا فائدہ صرف اشرافیہ اور طاقت ور طبقہ اٹھائے گا، عوام نہیں۔
نئے صوبوں سے متعلق ایک اور غلط فہمی یہ بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ اس سے اخراجات کم ہوں گے۔ یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم اپنے موجودہ صوبائی نظام کو نہیں چلا سکتے تو 33 الگ حکومتیں کیسے چلائیں گے؟ 33 گورنر، 33 کابینائیں، 33 اسمبلیاں، سیکڑوں سیکریٹری، دفاتر، پروٹوکول، گاڑیاں، تنخواہیں، مراعات۔ یہ اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ عوام سے، اور قرضے سے۔ کیا یہ ترقی ہے یا عوام پر بوجھ بڑھانے کا ایک نیا طریقہ؟
پاکستان کو صوبوں کی تقسیم نہیں چاہیے۔ پاکستان کو شفاف اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے، جو ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک اختیار منتقل کرے۔ کراچی سے لے کر گوادر، دادو، حیدرآباد، مظفرگڑھ، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ تک ہر شہری کو مقامی سطح پر تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے فیصلوں میں شمولیت چاہیے۔ اسی سے میرٹ پیدا ہوگا، اسی سے عوامی قیادت ابھرے گی، اسی سے بیڈ گورننس ختم ہوگی۔
نئے صوبوں کی بحث دراصل حقیقی اصلاحات سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ اصل مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔ اور جب تک یہ رکاوٹ ختم نہیں ہوگی، چاہے نقشہ سو بار بدل دیں، عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔ پاکستان کو ٹکڑوں میں نہیں، اداروں میں مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صوبے نہیں، انصاف چاہیے۔ تقسیم نہیں، اختیار چاہیے۔ نقشے نہیں، نظام چاہیے۔ یہی اصل اصلاح ہے، اور یہی پاکستان کی بقا کا راستہ۔