کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان کی طویل شاہراہوں پر خواتین کے لیے محفوظ اور صاف ستھرے عوامی ٹوائلٹس کی عدم موجودگی کا سنگین مسئلہ بالآخر بلوچستان ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ تین معروف سماجی کارکنان — فوزیہ شاہین، کلثوم بلوچ اور ڈاکٹر قرۃالعین بختیاری- نے مشترکہ طور پر ایک آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے خواتین کے لیے شاہراہوں، عوامی مقامات اور دفاتر میں فوری طور پر مناسب صفائی کی سہولیات فراہم کریں.
شاہراہوں پر خواتین شدید مشکلات کا شکار
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کی اہم قومی شاہراہوں این-10، این-25، این-30، این-40 سمیت دیگر بڑے راستوں پر روزانہ ہزاروں خواتین سفر کرتی ہیں، مگر ان پر خواتین کے لیے عوامی بیت الخلاء موجود نہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے خواتین کو نہ صرف شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ یہ ان کے بنیادی آئینی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے.
کلثوم بلوچ کے مطابق:
“کوئٹہ سے کراچی تک قومی شاہراہ پر مستونگ اور قلات میں خواتین کے لیے ایک بھی ٹوائلٹ موجود نہیں۔ خضدار میں بس اسٹاپ ہوٹل پر جو سہولت ہے، وہ نہایت غیر معیاری اور غیر صاف ہے۔ خواتین مسافروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر سہولیات صفر ہیں۔“
ثقافتی رکاوٹیں اور صحت کے خطرات
درخواست میں کہا گیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں خواتین پہلے ہی سماجی اور ثقافتی پابندیوں کا سامنا کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں طویل سفر دوران وہ پانی پینے سے بھی گریز کرتی ہیں، جو صحت کے سنگین مسائل، خصوصاً یو ٹی آئی (UTI) اور دیگر انفیکشنز کا سبب بن رہا ہے۔
شاہراہوں سے دفاتر تک
درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف شاہراہوں ہی نہیں بلکہ صوبے کے تمام بڑے شہروں اور اضلاع- بشمول کوئٹہ، گوادر، تربت، خضدار، سبی، لورالائی، ژوب — میں بھی عوامی مقامات اور سرکاری دفاتر میں خواتین کے لیے محفوظ، قابلِ رسائی اور صنفی حساسیت رکھنے والی سہولیات فراہم کی جائیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ:
“شاہراہیں نہ صرف نقل و حمل کا ذریعہ ہیں بلکہ وہ روزمرہ راستے بھی ہیں جن سے گزر کر خواتین اپنی سماجی، معاشی اور طبی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ مناسب واش رومز کی عدم موجودگی ان کے وقار، صحت اور تحفظ کو متاثر کر رہی ہے۔”
سماعت اگلے ہفتے متوقع
درخواست کی سماعت اگلے ہفتے بلوچستان ہائی کورٹ میں متوقع ہے، جہاں امید کی جا رہی ہے کہ عدالت اس اہم عوامی مسئلے پر مثبت اور مؤثر فیصلہ دے کر خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار سفر کی راہ ہموار کرے گی۔