ڈھاکہ(ويب ڈیسک) بنگلہ دیش میں اپوزیشن جماعت بنگلاديش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے غیر سرکاری نتائج میں بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔
یہ انتخابات 2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ووٹنگ ملک میں کئی ماہ کی بدامنی اور احتجاج کے بعد استحکام کی جانب اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
بی این پی کو دو تہائی اکثریت
نجی ٹی وی چینل جامنا کے مطابق 300 رکنی قومی اسمبلی (جاتیا سنگساد) میں بی این پی کے زیرِ قیادت اتحاد نے 209 نشستیں حاصل کیں، یوں اسے پارلیمان میں واضح دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

نتائج سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملک کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ واضح کامیابی کے باوجود کوئی جشن یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی بلکہ ملک بھر میں مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور پگوڈاؤں میں دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔
بی این پی کی قیادت سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور جماعت کے مرکزی رہنما طارق رفیق کر رہے ہیں، جو وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران پارٹی نے غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے وعدے کیے تھے۔
جماعتِ اسلامی کی شکست تسلیم
بی این پی کی بڑی حریف مذہبی جماعت، جماعت اسلامی نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ جماعت کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا کہ وہ محض مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کریں گے بلکہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔
جماعت کے اتحاد میں شامل نیشنل سٹیزن پارٹی نے بھی محدود نشستیں حاصل کیں۔
ووٹر ٹرن آؤٹ اور ریفرنڈم
مقامی میڈیا کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے، جو 2024 کے انتخابات کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس بار دو ہزار سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا جبکہ 50 سے زیادہ سیاسی جماعتیں میدان میں تھیں۔
انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر ایک ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں عبوری غیر جانبدار حکومت کے قیام، پارلیمان کو دو ایوانی بنانے، خواتین کی نمائندگی بڑھانے، عدلیہ کی آزادی مضبوط کرنے اور وزیر اعظم کے لیے دو مدتوں کی حد مقرر کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ مقامی اخبار The Daily Star کے مطابق ابتدائی نتائج میں تقریباً 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔
شیخ حسینہ کا ردِعمل
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں، نے انتخابات کو “سوچی سمجھی ڈھونگ بازی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکا گیا اور حقیقی عوامی شرکت ممکن نہیں بنائی گئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ انتخابی عمل کو منسوخ کر کے غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت نئے، آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتخاب بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اصل امتحان نئی حکومت کے لیے معاشی بحالی اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانا ہوگا۔