تہران/یروشلم(ویب ڈیسک) ایرانی میڈیا نے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ایران نے فوری طور پر اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل میں بھی ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کے علاوہ کرمان شاہ، قم، لرستان، کرج اور تبریز میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان ماجد اخوان نے اعلان کیا کہ جاری کردہ نوٹم کے تحت پورے ملک کی فضائی حدود کو اگلے نوٹس تک بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملے کے بعد اپنی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سنیچر کی صبح حملوں کے فوراً بعد یہ پابندی عائد کی گئی، جبکہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر اسرائیل میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اسرائیل نے ایران کے خلاف اس کارروائی کو ’احتیاطاً پہلے حملہ‘ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پورے اسرائیل میں ’خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت‘ نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے وسطی علاقوں میں کم از کم تین دھماکے ہوئے، جبکہ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کئی میزائلوں نے دانشگاہ اسٹریٹ اور ریپبلک کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق ایران پر اسرائیلی حملے سے قبل امریکہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی امریکہ کے ساتھ مشاورت سے کی گئی، جبکہ اسرائیلی میڈیا وائے نیٹ نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹ شائع کی ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات آئندہ ہفتے بھی جاری رہیں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی نہ کرے۔ ان بیانات کے بعد ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات میں اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم حالیہ پیش رفت میں امریکہ کے بجائے اسرائیل نے پہلے ایران پر حملہ کیا ہے۔