اسلام آباد/اسکردو/کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کے زیرِ انتظام خطے گلگت بلتستان میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے خلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں متعدد مقامات پر پُرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی سفارتی تنصیبات کی جانب مارچ کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
حکومتِ پاکستان نے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی، جبکہ صورتحال کے پیشِ نظر کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔
ہلاکتوں کی تفصیل
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق پُرتشدد جھڑپوں میں اب تک کراچی میں 10، اسلام آباد میں ایک اور سکردو میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
گلگت میں حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب گلگت میں شیعہ نمائندہ تنظیموں نے سات افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو حساس مقامات سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیا۔
گلگت اور سکردو میں فوج کا کنٹرول
گلگت اور سکردو میں ہلاکتوں کے بعد دونوں اضلاع میں اتوار کی شب سے کرفیو نافذ ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے مطابق تین روزہ کرفیو دو مارچ کی رات 12 بجے سے چار مارچ کی نصف شب تک نافذ رہے گا، تاہم دن 12 بجے سے شام چار بجے تک محدود نرمی دی جائے گی۔
آئی جی گلگت بلتستان ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ آئندہ تین روز کے دوران گلگت اور سکردو کا انتظامی کنٹرول فوج کے پاس ہو گا جبکہ پولیس، ایف سی اور دیگر ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملے
اتوار کے روز مشتعل مظاہرین نے گلگت اور سکردو میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور بعض مقامات کو نذرِ آتش کر دیا۔ گلگت میں یو این ڈی پی کے دفتر جبکہ سکردو میں ایس پی ہاؤس اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
سکردو کے ریجنل ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال میں پانچ لاشیں لائی گئیں، جن میں ایک سکیورٹی اہلکار شامل ہے، جبکہ تقریباً 50 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔ ان کے مطابق بیشتر زخمیوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ
سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا، جہاں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 10 افراد ہلاک اور 73 زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
مظاہرین نے قونصل خانے کے باہر امریکی پرچم اتارنے کا مطالبہ کیا، جس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں صورتحال
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
لاہور اور پشاور میں بھی مظاہرے ہوئے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، تاہم وہاں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے بیان میں کہا ہے کہ وہ ملک بھر میں جاری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔