اسلام آباد(ویب ڈیسک) امریکہ نے بدھ کے روز پاکستان میں اپنے دو قونصل خانوں سے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلانے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے “حفاظتی خطرات” کے باعث لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں سے غیر ضروری سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں اور عملے کی موجودگی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اسی نوعیت کے اقدامات سعودی عرب، عمان اور قبرص میں بھی کیے ہیں، جہاں غیر ہنگامی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو حفاظتی خدشات کے باعث ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
منگل کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ سے امریکہ واپس آنے کے خواہشمند شہریوں کی مدد کے لیے “تاریخی اقدامات” کر رہا ہے۔ محکمے کے مطابق حالیہ دنوں میں 9 ہزار سے زائد امریکی شہری مشرق وسطیٰ سے بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں، جن میں اسرائیل سے آنے والے 300 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔