اسلام آباد (ويب ڈیسک) مایران کا مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گیا، جہاں ان کا استقبال نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کیا۔
محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد آمد پر کہا ہے کہ ایران نیک نیتی کے باوجود بارہا حملوں کا نشانہ بنا، تاہم اگر امریکا سنجیدہ ہے تو معاہدے کے لیے تیار ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف نے ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کیے گئے اور متعدد جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی نیت ہمیشہ مثبت رہی ہے، لیکن امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق قالیباف کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقی معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ایرانی قوم کے جائز حقوق کو تسلیم کرتا ہے تو ایران بھی مکمل آمادگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوگا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن مذاکرات کو محض نمائشی عمل یا دھوکا دہی کے طور پر استعمال کرے گا تو تہران اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران کی دفاعی اور جوابی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور پُرعزم ہے۔