اسلام آباد مذاکرات ناکام، ’ہم نے لچک دکھائی مگر پیشرفت نہ ہو سکی‘: جے ڈی وینس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایران سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نور خان ائیربیس سے امریکہ روانہ ہو گئے جہاں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انہیں الوداع کیا۔

نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 16 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی لیکن ایران نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات میں نیک نیتی اور لچک کا مظاہرہ کیا۔ “صدر نے ہمیں ہدایت دی تھی کہ ہم نیک نیتی کے ساتھ جائیں اور معاہدے کے لیے بھرپور کوشش کریں، ہم نے وہ کیا لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔”

ایک سوال کے جواب میں نائب صدر نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں پر بھی بات ہوئی، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی اس کے لیے درکار صلاحیت حاصل کرے گا۔ “ہمیں ابھی تک ایسی آمادگی نظر نہیں آئی۔”

جے ڈی وینس نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ان کا ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل رابطہ رہا اور گزشتہ 21 گھنٹوں میں متعدد بار بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی ٹیم کے دیگر ارکان سے بھی مسلسل مشاورت جاری رہی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک “سادہ تجویز” کے ساتھ آیا تھا جس میں افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کرنے کی بات کی گئی، تاہم یہ دیکھنا تھا کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔

نائب صدر کے مطابق امریکہ نے واضح کر دیا تھا کہ کن نکات پر مفاہمت ممکن ہے اور کن پر نہیں، لیکن ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔”

جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر پڑے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں