پسند کی شادی پر جوڑے کا قتل: شیر باز ستکزئی سمیت 20 افراد گرفتار کرنے کا دعویٰ، انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج

کوئٹہ (ویب ڈیسک)  بلوچستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیغاری میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے بہیمانہ قتل کے واقعے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سردار شیر باز ستکزئی سمیت 20 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں سردار کے چار بھائی اور دو محافظ بھی شامل ہیں، جب کہ مرکزی ملزم بشیر احمد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔  تاہم ابھی تک گرفتار ملزمان کو میڈیا کے سامنے ظاہر نہیں کیا گیا۔

واقعے کا مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں 15 نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق، قتل ہونے والے بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی نے چند روز قبل مرضی سے شادی کی تھی، جس پر انہیں “کاروکاری” کے الزام میں قبائلی سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سردار شیر باز ستکزئی نے جرگہ لگا کر دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، جس پر انہیں گاڑیوں میں لے جا کر ڈیگاری کے مقام پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے عوام میں شدید غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی۔ ویڈیو میں جوڑے کو بے دردی سے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

عدالت نے سخت سیکیورٹی میں پیش کیے گئے سردار شیر باز ستکزئی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے کیس کو سیریس کرائمز انویسٹیگیشن ونگ کے سپرد کر دیا ہے۔

دریں اثناء، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو 22 جولائی کو طلب کر لیا ہے، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر مقتولہ خاتون کی قبر کشائی بھی کی جا رہی ہے۔

مقتولین کے درمیان ازدواجی تعلق نہیں تھا، وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سنجیدی ڈیگاری میں خاتون اور مرد کے قتل سے متعلق سوشل میڈیا پر زیر گردش دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا۔

پیر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری ہے، مقتول خاتون پانچ بچوں کی ماں تھیں جبکہ قتل ہونے والے مرد کے بھی چار سے پانچ بچے تھے۔ “سوشل میڈیا پر اس واقعے کو نوبیاہتا جوڑے کا قتل قرار دیا جا رہا تھا، جو کہ درست نہیں ہے،” انہوں نے وضاحت کی۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے سے پہلے ہی حکومت نے اس پر نوٹس لے لیا تھا اور آئی جی کو فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی گئی تھی۔ اب تک اس کیس میں 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ “ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس کیس میں بھی ریاست متاثرین کے ساتھ ہے۔ ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکومت کو بروقت آگاہ کرتا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس کو حکومت ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہی ہے اور انصاف کی فراہمی میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ جرگوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کے غیر قانونی جرگے روکنے کی کوشش کی گئی ہے اور حکومت انہیں فروغ نہیں دے گی۔ “ہمیں آئین و قانون کے مطابق چلنا

مقتولین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم  رپورٹ سامنے آگئی۔

کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجیدی ڈیگاری میں فائرنگ  کے واقعے میں قتل مرد اور عورت کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا۔

پولیس سرجن سنڈیمن اسپتال ڈاکٹر عائشہ فیض کے مطابق پوسٹ مارٹم ڈیگاری کول مائن قبرستان میں کیاگیا۔پولیس سرجن کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں قتل مرد اور عورت کے پوسٹ مارٹم کے مطابق خاتون کو 7 گولیاں لگیں اور مرد کو 9 گولیاں لگیں۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق دونوں کو 4 جون 2025 کو قتل کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں