پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد میں 128 فیصد اضافہ، ساحل کی تشویشناک رپورٹ

سکھر(نیوز ڈیسک) پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معروف سماجی تنظیم ساحل نے جنوری تا جون 2025 کے دوران ہونے والے صنفی تشدد پر مبنی اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے چھ ماہ میں 3958 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 128 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ملک بھر کے 81 قومی و علاقائی اخبارات سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہے، جس میں چاروں صوبے، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔

اعداد و شمار ایک نظر

رپورٹ شدہ کیسز جنوری تا جون 2024 کے دوران 1732جنوری تا جون 2025 کے دوران 3958 کیسز رپورٹ ہوئے۔

عمر کی بنیاد پر کیسز کی تقسیم

427 کیسز میں متاثر افراد کی عمر 21 تا 30 سا تھی، 342 کیسز میں 11 تا 20 سال، 163 کیسز میں 31 تا 40 سال جبکہ جبکہ 72 فیصد کیسز میں عمر کا ذکر ہی نہیں کیا گیا.

• پچھلے سال کی چھ ماہ کی رپورٹ سے کیسز میں 128% اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق857 قتل، 783 اغوا، 638 تشدد، 380 زنا، 371 خودکشی، 149 غیرت کے قتل، اور 20 دیگر قسم کے جرائم کے زمرے میں ہراسانی، زخمی، اجتماعی زنا اور تیزاب کے حملے شامل ہیں۔

جنسی وحشی کون ہیں؟

ساحل کی رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے 35 فیصد واقعات میں ملوث ملزمان متاثرین کے واقف کار تھے، 18 فیصد اجنبی، 12 فیصد، شوہر جبکہ 18 فیصد کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔

جرم کی جگہیں:

2578 کیسز متاثرہ کی رہائش گاہ پر پیش آئے59 کیسز میں جرم زیادتی کرنے والے کی جگہ پر ہوا. رپورٹ کے مطابق 80 فیصد کیسز پنجاب سے، 13 فیصد سندھ سے، 5 فیصد خیبرپختونخوا اور 2 فیصد بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہے۔

قانونی پیش رفت:

79 فیصد کیسز پولیس کے ساتھ باقاعدہ درج کیے گئے19 فیصد کیسز کا قانونی اسٹیٹس واضح نہیں1 فیصد کیسز غیر درج رہے2 کیسز میں پولیس نے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

ساحل کا مؤقف:

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار معاشرتی، قانونی اور حکومتی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ ساحل نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت خواتین، بچیوں اور دیگر متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانون سازی، فوری انصاف کی فراہمی، اور پولیس و عدالتی نظام میں اصلاحات کو یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں