اسلام آباد: “تعلقات کو مضبوط، امن کو یقینی بنانا” کے موضوع پر پاکستان میں ایک اعلیٰ سطحی دفاعی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا مقصد سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا، مشترکہ تربیتی اقدامات کو مضبوط بنانا، اور انسداد دہشت گردی و دیگر دفاعی شعبوں میں بہترین تجربات کا تبادلہ تھا۔ یہ تفصیلات پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں دی گئیں۔
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کانفرنس میں شریک وفود کا باقاعدہ خیرمقدم کیا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
“بین الاقوامی خطرات اور پیچیدہ چیلنجز کے اس دور میں افواج کے مابین تعاون، مٹبت مکالمہ اور باہمی اعتماد ناگزیر ہو چکے ہیں۔ پاکستان ایک محفوظ اور خوشحال خطے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے،“ آرمی چیف نے کہا۔
کانفرنس میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی میں تعاون، وسطی و جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے ہنگامی صورتحال میں انسانی بنیادوں پر ردعمل جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

شریک وفود نے امن کے قیام، قومی خودمختاری کے احترام، اور مشترکہ خطرات جیسے کہ دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی کے مسائل، اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مہمانوں نے پاکستان کی قیادت اور میزبانی کو سراہتے ہوئے اس کانفرنس کو ایک جامع، مثبت اور مستقبل بینی پر مبنی دفاعی سفارتکاری کی اہم پیش رفت قرار دیا۔
عالمی سطح پر پاکستان کا کردار نمایاں
یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب پاکستان کی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بیجنگ کا دورہ کیا، جہاں اُنہوں نے چین کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی۔ امریکی سیکریٹری نے پاکستان کی ایران-امریکہ ثالثی کی کوششوں اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔
بعد ازاں اٹلانٹک کونسل سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان پُل کا کردار دوبارہ ادا کرنے کو تیار ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے ان دونوں عالمی طاقتوں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا تھا۔