سکھر میں ماحولیاتی کارکنوں کا اجتماع، کوپ 30 سے قبل موسمیاتی انصاف کا مطالبہ

سکھر (انڈس ٹربیون)سکھر میں ماحولیاتی کارکنوں نے کوپ 30 اجلاس سے قبل موسمیاتی انصاف کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے ایک بڑی عوامی م
اجتماع منعقدکیا۔ ناری فاؤنڈیشن اور انڈس کنسورشیم کے اشتراک سے یہ اجلاس روہڑی کے تاریخی اور تفریحی مقام ستین جو آستان پر ہوا، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان، خواتین اور سماجی کارکن شریک ہوئے۔ یہ سرگرمی عالمی سطح پر منعقد ہونے والی “گلوبل ڈے آف ایکشن” مہم کا حصہ تھی۔

شرکاء نے برازیل کے شہر بیلیم میں جاری کوپ 30 کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ موسمیاتی مالی امداد اور انصاف کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کریں اور وعدوں پر عملی پیش رفت یقینی بنائیں۔ مقررین نے کہا کہ دنیا کو فوری طور پر فاسل فیولز سے نکل کر قابلِ تجدید توانائی کے ذریعے صاف ماحول کی طرف بڑھنا ہوگا، جبکہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے شدید متاثر ممالک کو مالی معاونت میں ترجیح دی جانی چاہیے۔

ناری فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انور علی مہر اور پروگرام مینیجر شازیہ عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس موسمیاتی بحران کا بوجھ اٹھا رہا ہے جس کا وہ ذمہ دار نہیں۔ سندھ کے لوگ بڑھتی ہوئی گرمی، پانی کی قلت اور بار بار آنے والی سیلابی تباہ کاریوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کوپ 30 میں ’نقصان و تلافی فنڈ‘ کے لیے موثر آواز اٹھائی جائے، کیونکہ متاثرہ اضلاع کو صرف عارضی امداد نہیں بلکہ مستقل بحالی کی ضرورت ہے۔

سماجی کارکن عذرا جمال، شبانہ خاکی، سائرہ لاشاری، فیاض اجن اور دیگر نے بتایا کہ عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے لیکن خطرات سب سے زیادہ اسی کو درپیش ہیں۔ دیہی خواتین موسمیاتی آفتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ فصلوں کی تباہی اور پانی کی کمی کے بعد سارا بوجھ انہی پر آ پڑتا ہے۔

دیگر مقررین حیدر علی مہر اور شکیلا کنول نے کہا کہ غیر یقینی موسم، سمندری پانی کے اثرات اور بار بار آنے والی شدید گرمی نے سندھ میں روزگار کے مواقع کم کر دیے ہیں، جس سے سماجی و معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ناری فاؤنڈیشن کی یہ سرگرمی 16 ممالک کے 100 سے زائد شہروں میں ہونے والے عالمی احتجاجی اقدامات کا حصہ تھی۔ صرف ایشیا میں فلپائن، بھارت، بنگلادیش، پاکستان اور نیپال میں کم از کم 10 ہزار افراد نے موسمیاتی انصاف کے لیے آواز اٹھائی۔ شرکاء نے کارپوریٹ بے ضابطگیوں اور ماحولیاتی ناانصافی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں