لاڑکانہ وکلاء کنوینشن: کارپوریٹ فارمنگ، 26ویں آئینی ترمیم اور “مورو سانحے” کے خلاف الگ الگ احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان

لاڑکانہ(بیورو رپورٹ) سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کی میزبانی میں آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے تحت سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ کے احاطے میں وکلاء کا اہم کنونشن منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن میں سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، کارپوریٹ فارمنگ، 26ویں آئینی ترمیم اور پیکا قانون کے خلاف سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کراچی بار کے صدر اور ممتاز وکیل رہنما عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ وکلاء دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، ایک دھڑا حکومتی سرپرستی میں جبکہ دوسرا قانون کی بالادستی اور دھرتی کے مسائل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بارز حکومتی کنٹرول میں نہیں ہیں، انہیں فنڈز سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ تابع بارز کو فنڈز اور تقرریوں کا لالچ دیا جا رہا ہے۔

عامر نواز وڑائچ نے انکشاف کیا کہ 26ویں ترمیم کے وقت انہیں اور دیگر وکلاء رہنماؤں کو اعلیٰ عدالتی عہدوں کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا: “ہمیں کہا گیا کہ اگر حکومت کا ساتھ نہ دیا تو انتخابات ہار جاؤ گے، مگر ہم نے اپنے ضمیر اور اصولوں کا سودا نہیں کیا۔”

انہوں نے کہا کہ مورو واقعے کے بعد حکومت نے ابھی تک عدالتی کمیشن قائم نہیں کیا، جس سے عوام کے اندر بےچینی بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر عدالتی کمیشن تشکیل نہ دیا تو 9 اگست کو سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سے حیدرآباد پریس کلب تک “مورو مارچ” کیا جائے گا، جس میں سندھ بھر کے وکلاء شرکت کریں گے۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس یا سندھ اسمبلی تک مارچ کرنے کا اعلان

وکلاء نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کراچی سے وزیر اعلیٰ ہاؤس یا سندھ اسمبلی تک مارچ کیا جائے گا اور چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا۔

کنونشن کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار لاڑکانہ کے صدر اطہر عباس سولنگی، کے بی لغاری، امر حسیب پنہور، جاوید بلیدی سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے سندھ کی قیمتی زمینیں سستے داموں نجی کمپنیوں کو دی جا رہی ہیں، جو سندھی عوام کو ان کی زمینوں سے بےدخل کرنے کی سازش ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں اور عام شہریوں کی آزادی اظہار پر قدغن لگائی جا رہی ہے، جس پر وکلاء برادری خاموش نہیں رہ سکتی۔

کنونشن میں وکلاء کے مابین کشیدگی اور بائیکاٹ

کنونشن کے دوران پیپلز لائرز فورم اور پیپلز پارٹی مخالف وکلاء کے درمیان اس وقت تناؤ پیدا ہوا جب کچھ وکلاء نے اسٹیج پر آکر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس پر پیپلز لائرز فورم لاڑکانہ کے صدر ریاض سومرو اور جنرل سیکریٹری آصف چانڈیو کی قیادت میں کچھ وکلاء نے کنونشن کا بائیکاٹ کر کے بار روم میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف چانڈیو نے کہا کہ کنونشن سے متعلق انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، اور بغیر اجازت کے ایسے افراد کو بلایا گیا جو لا کے طلبہ تھے اور ابھی ان کی بار میں باقاعدہ داخلہ بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کنونشن میں پیپلز پارٹی قیادت کے خلاف جان بوجھ کر نفرت پھیلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جلد جنرل باڈی اجلاس بلایا جائے گا، جہاں وہ اپنا مؤقف پیش کریں گے اور اگر وکلاء نے کہا تو وہ استعفیٰ بھی دے دیں گے، تاہم “ون مین شو” پر وہ خاموش نہیں رہ سکتے۔

شرکاء کی بڑی تعداد

کنونشن میں کراچی، حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ سمیت سندھ کے تمام ڈویژنل، ضلعی اور تعلقہ بارز کے صدور، جنرل سیکریٹریز اور دیگر وکلاء عہدیداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں