ایچ آئی وی سے بچاؤ کی نئی دوا ’لینا کپاویئر‘: ڈبلیو ایچ او کا دنیا بھر میں فوری دستیابی پر زور

جنیوا (ویب ڈیسک) – عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کے خلاف ایک نئی اور موثر دوا “لینا کپاویئر” (Lenacapavir) تمام لوگوں کے لیے فوری طور پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ اس موذی مرض سے بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ کے مطابق لینا کپاویئر ایک طویل اثر رکھنے والی دوا ہے جو صرف دو خوراکوں کے ذریعے ایچ آئی وی کے خطرے سے مؤثر طور پر بچاتی ہے۔ یہ دوا انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہے اور روزانہ کھائی جانے والی گولیوں یا مختصر مدتی علاج کا بہترین متبادل قرار دی جا رہی ہے۔ فی الحال اس دوا کے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔

عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں منعقدہ 13ویں عالمی ایڈز سوسائٹی کانفرنس (IAS 2025) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ایچ آئی وی کے خلاف ابھی تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے لینا کپاویئر اس وقت سب سے بہتر متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ابتدائی تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دوا خطرے سے دوچار افراد کو ایچ آئی وی کے کسی بھی قسم کے انفیکشن سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔”

اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے اس دوا کی حمایت نہایت اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں ایچ آئی وی سے بچاؤ کی کوششیں جمود کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ پیچیدہ اور مہنگے ٹیسٹس کے بجائے سادہ میڈیکل ٹیسٹ کٹس کا استعمال کیا جائے تاکہ لوگ اپنے گھروں کے قریب ہی آسانی سے اس انجیکشن تک رسائی حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر ٹیڈروس کا مزید کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او اپنے رکن ممالک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس دوا کو جلد از جلد، محفوظ اور مؤثر طریقے سے زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں