کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف مارکسی دانشور، صحافی اور مصنف سبط حسن کی سالگرہ کے موقع پر ان کی فکری و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کراچی میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس میں ملک بھر سے ترقی پسند دانشوروں، صحافیوں، طلبا اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔
یہ تقریب نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیرِ اہتمام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے حسینہ معین ہال میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی سہیل سانگی نے کہا کہ سبط حسن پاکستان میں سیکولر تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “آج جب استحصال کا لفظ سیاسی جماعتوں کے منشور سے نکال دیا گیا ہے، ایسے میں سبط حسن کی تحریروں کا ازسرِنو مطالعہ اور تجزیہ ناگزیر ہے۔”

پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ سبط حسن نے عوامی تاریخ نویسی کے میدان میں نمایاں کام کیا اور سیکولرزم، وفاقیت اور تہذیبی وحدت جیسے موضوعات پر تحقیق پر مبنی ادب تخلیق کیا۔
“ریاست مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے”
سماجی تجزیہ نگار ڈاکٹر ریاض شیخ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ “ریاست مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور وفاق میں شامل قوموں کی شناخت مٹانے کی کوشش جاری ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس طرزِ حکمرانی کے باعث اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کا استحصال بڑھتا جا رہا ہے اور عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔
انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “ڈاکٹر شاہنواز کنبھر جیسے افراد کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کر کے لاشیں جلائی جا رہی ہیں، جو ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کی واضح مثالیں ہیں۔”
سبط حسن: جدوجہد کا استعارہ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترقی پسند لکھاری ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ سبط حسن نے صحافت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے برصغیر میں ترقی پسند فکر کو پھیلایا۔ ان کے مطابق سبط حسن کی تحریریں آج بھی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔
کامریڈ زہرہ خان نے موجودہ حکومت کی کارپوریٹ فارمنگ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے کسانوں کو غلام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو سندھ میں خوراک کے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
مقررین کا سبط حسن کو خراج تحسین
تقریب کے آخر میں ناصر منصور نے کہا کہ “سبط حسن پسماندہ طبقات کے ہیرو تھے جنہوں نے علم، ادب اور سیاست میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ملکی صورتحال میں سبط حسن، سوہبو گیانچندانی، سجاد ظہیر اور ابراہیم جویو جیسے نظریاتی رہنماؤں کی فکر اور جدوجہد سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں امان اللہ شیخ، یونس مہر، مہناز رحمن،
کامریڈ اسلم بنگلزئی، پروفیسر اصغر دشتی، شاعر نصیر سومرو اور متعدد ادبی و سماجی شخصیات نے شرکت کی اور سبط حسن کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔