سندھین نیشنل کانگریس کا سندھ میں بدامنی اور ڈاکو راج کے خلاف 30 اگست کو سکھر میں “سندھ امن مارچ” کا اعلان

سکھر(رپورٹر)  سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، قتل و غارت اور ڈاکو راج کے خلاف سندھین نیشنل کانگریس نے 30 اگست کو سکھر میں “امن مارچ” کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہفتے کے روز سکھر نیشنل پریس کلب میں سندھین نیشنل کانگریس کے مرکزی چیف آرگنائزر ایڈووکیٹ محب آزاد لغاری، ڈپٹی چیف آرگنائیزر سارنگ جویو ودیگر رہنماؤوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اغوا برائے تاوان اور جبری مذہب کی تبدیلی جیسے سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں خاص طور پر سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں ہندو، میمن و دیگر کاروباری طبقے کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کارباری طبقے کے افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا جا رہا ہے جبکہ ہندوؤں کی کم عمر بیٹیوں کو اغوا کر کے جبراً مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے تاکہ انہیں نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان دونوں ڈویژنز میں عسکری اداروں، پولیس اور بااثر سرداروں کی سرپرستی میں ڈاکو سرگرم ہیں جو عام شہریوں کو اغوا، ڈکیتی اور لوٹ مار کے ذریعے خوف و ہراس میں مبتلا کر کے انہیں نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں، تاکہ کچے اور بارڈر کے قریب زمینوں پر قبضہ کر کے کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچے کے ڈاکو ریاست کی پیداوار ہیں، ڈاکو راج کو پروان چڑھا کر کچے میں آپریشن کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ چھوٹے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے بھان کچے کی قیمتی زمینوں پر بڑے ڈاکوؤں سے قبضا کروایا جا سکے۔  

سندھین نیشنل کانگریس نے اعلان کیا کہ بدامنی، لاقانونیت، ڈاکو راج جیسے مسئلے کو اجاگر کرنے اور عوام کو منظم کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں 30 اگست کو سکھر میں ہاکی گرائونڈ سے گھنٹہ گھر چوک تک سندھ امن مارچ کیا جائے گا۔

انہوں نے سکھر کی سیاسی و سماجی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا، ادیبوں، دانشوروں اور قومپرست کارکنوں سمیت تمام سندھی عوام سے اپیل کی کہ وہ مارچ میں بھرپور شرکت کر کے ڈاکو راج کے خلاف آواز بلند کریں۔


رہنماؤں نے مزید کہا کہ دوسرے مرحلے میں سندھ امن مارچ لاڑکانہ ڈویژن کے شہر کندھ کوٹ میں کیا جائے گا، جس کی تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی۔

اس موقع پر مرکزی آرگنائزر محسن حسن سولنگی، سندھین نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی چیف آرگنائزر غنی امان چانڈیو، مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر عدیل لغاری اور سندھین نیشنل کانگریس لائرز فورم کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ مختیار سمائر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں