سکھر(رپورٹر) سکھر میں وومین پولیس سینٹر سے زیرِ تحفظ رکھی گئی خاتون لاپتہ ہوگئیں، جبکہ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی مبینہ غفلت پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
عدالت کے حکم پر پناہ
پولیس کے مطابق، لاپتہ ہونے والی خاتون کی شناخت سمیرا بھنبھرو زوجہ محب علی کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں صالح پٹ ضلع سکھر سے عدالت کے حکم پر وومین پولیس سینٹر منتقل کیا گیا تھا تاکہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
لاپتگی کا واقعہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 16 اگست کی صبح تقریباً 6 بجے ڈیوٹی افسران نے چیکنگ کے دوران خاتون کو اپنی جگہ پر موجود نہ پایا، جبکہ اس وقت ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکار بھی غیر حاضر تھے۔
ذمہ دار اہلکار اور الزامات
تحقیقات کے مطابق، خاتون کی نگرانی کی ذمہ داری WPC عبدالمجید، PC زبیع اللہ اور لیڈی کانسٹیبل رقیہ بھٹی کو دی گئی تھی۔ تاہم ان کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث خاتون مرکز سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
مقدمہ درج
واقعے پر تھانہ اے سیکشن سکھر میں مقدمہ نمبر 260/2025 درج کر لیا گیا ہے، جس میں:
دفعہ 223 تعزیراتِ پاکستان (ملزم کو بھاگنے دینا یا حراست میں کوتاہی)،

دفعہ 34 تعزیراتِ پاکستان (مشترکہ غفلت/عمل)، اور
دفعہ 155C پولیس ایکٹ 2019 شامل کی گئی ہیں۔
پولیس کی کارروائی
پولیس حکام کے مطابق، لاپتہ خاتون کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً دس سال قبل سکھر کے اسی وومین پولیس اسٹیشن سے شر برادری سے تعلق رکھنے والی ایک پناہ لینی والی خاتون لاپتہ ہو گئی تھی جس کو بعد میں شوہر نے قتل کر دیا۔ تفتیش میں انکشاف کیا گیا کہ خاتون کو پولیس اسٹیشن کی انچارج نے 5 لاکھ روپے کے عوض غیر قانونی طور پر شوہر کے حوالے کیا تھا۔
وقتی طور پر اس عمل کے ذمہ پولس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی تاہم کچھ عرصہ بعد انہیں دوبارہ بحال کر کے پوسٹنگ دی گئی۔