سانگھڑ(مانیٹرنگ ڈیسک) سانگھڑ شہر میں حیدرآباد روڈ پر واقع مرچی 360 ہوٹل کے باہر ڈان نیوز کراچی سے وابستہ رپورٹر خاور حسین باجوہ کی ایک کار سے گولی لگی ہوئی لاش برآمد کی گئی۔

عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق، خاور حسین اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر خون میں لت پت پائے گئے۔ ان کو کن پٹی پر گولی لگی ہوئی تھی اور ان کے ہاتھ میں ایک پستول موجود تھی، جبکہ گاڑی ہوٹل کے باہر کھڑی تھی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال سانگھڑ منتقل کر دیا۔

پولیس کا مؤقف
ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر پولس شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ شواہد اکٹھے کر کے فرانزک کیلئے بھیجی جائیں گی۔ تاکہ تحقیقات میں شفافیت لائی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاور حسین کی کم پٹی پر ایک گولی لگی ہے جو کہ دوسری طرف سے پار ہوگئی ہے۔
خاور حسین کا صحافتی کیریئر
خاور حسین کئی برسوں سے کراچی میں صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے اور اس وقت ڈان نیوز کے ساتھ بطور رپورٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے مختصر مگر کامیاب صحافتی سفر میں انہوں نے اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے باعث ایک منفرد پہچان بنائی تھی۔ ان کی اچانک اور پراسرار موت کی خبر نے سندھ سمیت پورے ملک کے صحافتی حلقوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
سانگھڑ کے سینئر صحافی عبدالسمیع میمن نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ:
“خاور حسین ایک زندہ دل اور باوقار صحافی تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے تھوڑے عرصے میں صحافت میں بڑا نام کمایا۔ یقین نہیں آتا کہ ان کی اس طرح موت ہوئی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ خاور حسین کراچی میں فیملی کے ساتھ رہائش پذیر تھے مگر اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے سانگھڑ آتے رہتے تھے۔ وہ جب بھی سانگھڑ آتے تو صحافی دوستوں سے ملاقات لازمی کرتے تھے، لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ وہ آئے اور کسی سے رابطہ نہ کیا۔
ان کے مطابق، خاور حسین کے دو بھائی امریکہ میں مقیم ہیں، والد بھی حال ہی میں امریکہ منتقل ہوئے ہیں جبکہ سانگھڑ میں صرف ان کی ایک بہن رہائش پذیر ہیں جو اسکول ٹیچر ہیں۔ عبدالسمیع میمن نے مزید کہا کہ:
“خاور حسین ایک بہادر اور حالات کا مقابلہ کرنے والے شخص تھے، یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ وہ خودکشی کریں۔ پولیس کو ان کی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔”
صحافی برادری اور سماجی ردعمل
پاکستان بھر کے صحافتی حلقوں اور مختلف پریس کلبز نے خاور حسین کی المناک موت پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صحافیوں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔
دوسری جانب سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں صحافیوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور ایسے واقعات نہ صرف آزادیِ صحافت بلکہ معاشرتی سلامتی کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں