شکارپور (رپورٹر) شکارپور پولیس لائن میں ایک بڑی تقریب کے دوران کچے کے مختلف ڈاکو گروہوں سے تعلق رکھنے والے 71 خطرناک ڈاکوؤں نے سندھ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
تقریب میں وزیرِ داخلہ سندھ ضیاءُالحسن لنجار، آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ڈی جی رینجرز سندھ، سیکٹر کمانڈر، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکارپور شاہزیب چاچڑ، ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم، ایس ایس پی کشمور مراد گھانگھرو، ایس ایس پی سکھر اظہر مغل سمیت اعلیٰ افسران، سیاسی و سماجی شخصیات بڑی تعداد میں شریک تھیں۔
پولیس کے مطابق پیش ہونے والے ڈاکوؤں کا تعلق تیغانی، بڈانی اور سبزوئی گروپوں سے ہے، جن میں کئی
اشتہاری اور بھاری انعام یافتہ ملزمان شامل ہیں۔

اہم ڈاکو اور انعامی تفصیل:
نثار سبزوئی: 82 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے
لالو تیغانی: 93 مقدمات، انعام 20 لاکھ روپے
سکھیو تیغانی: 49 مقدمات، انعام 60 لاکھ روپے
سونارو تیغانی: 26 مقدمات، انعام 60 لاکھ روپے
جمعو تیغانی: 24 مقدمات، انعام 20 لاکھ روپے
ملان عرف واجو تیغانی: 29 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے
گلزار بھورو تیغانی: 14 مقدمات، انعام 30 لاکھ روپے
غلام حسین عرف نمو تیغانی: انعام 3 لاکھ روپے
نورالدین تیغانی: 6 مقدمات، انعام 15 لاکھ روپے
ڈاکوؤں کے جرائم:
پولیس کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے 71 خطرناک ملزمان 9 پولیس اہلکاروں کے قتل، 6 شہریوں کے قتل، 6 اغوا برائے تاوان، 5 ہائی وے ڈکیتیوں اور درجنوں پولیس مقابلوں میں ملوث رہے ہیں۔
200 سے زائد جدید اسلحہ برآمد:
سرینڈر پالیسی کے تحت ان ڈاکوؤں نے مجموعی طور پر 200 سے زائد جدید ہتھیار سندھ پولیس کے حوالے کیے، جن میں شامل ہیں:
G3 رائفلز: 62
ایس ایم جیز (SMG): 97
ڈبل بیرل بندوقیں: 48
آر پی جی (RPG): 2
اس کے علاوہ اینٹی ٹینک RR-75 اور 12.7 اینٹی ایئرکرافٹ گن بھی جمع کرائی گئی۔
وزیر داخلہ ضیاءُالحسن لنجار کا خطاب:
وزیرِ داخلہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
> “قانون کی عملداری تب ہی ممکن ہے جب لوگ خود کو قانون کے حوالے کریں اور عدالتوں کے سامنے پیش ہوں۔ آج جو ڈاکو ہتھیار ڈالنے آئے ہیں، یہ بہادری کا مظاہرہ ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، اور حکومت انہیں بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر اب بھی کچے میں موجود ہیں، وہ بھی خود کو پولیس کے حوالے کریں۔ حکومت نے اس عمل کی نگرانی کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، جو کچے کے علاقوں میں روزگار، تعمیراتی اور سماجی منصوبوں کے ذریعے عام زندگی کی بحالی میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔
شکارپور پولیس کے مطابق کچے کے علاقوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے آپریشن گزشتہ سات برسوں سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔