اوباڑو (رپورٹ: مظہر چاچڑ)سندھ کے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباڑو میں مسافر بس سے لوٹ مار اور مسافروں کے اغوا کے واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کے مشترکہ آپریشن میں تمام مغویوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے تین ڈاکوؤں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ شب کنبھڑا تھانے کی حدود میں گڈو لنک روڈ مرید شاخ کے قریب پیش آیا، جہاں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی مسافر بس ’سدا بہار کوچ‘ کو تقریباً دو درجن مسلح افراد نے فائرنگ کر کے روکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے مسافروں سے لوٹ مار کے بعد 19 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز نے کچہ کے علاقوں میں مشترکہ آپریشن شروع کیا، جو دوسرے روز بھی جاری رہا۔ پولیس ترجمان کے مطابق ڈاکو دریائے سندھ کے جزیروں میں چھپے ہوئے تھے، جنہیں نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران تین ڈاکو ہلاک ہوئے، جن کی شناخت لالا سکھانی، شیرا کورائی اور عاشق کورائی کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ اندھڑ گینگ، سکھانی اور بکرانی گروہ کے متعدد ڈاکو زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
پولیس کے مطابق مشترکہ آپریشن کے دوران 14 مغویوں محمد عرفان، لعل خان، عمیر، ذوالفقار، شاہین اکبر، عبدالنبی، علی حیدر، محمد مدنی، راشد، فیروز خان، عماد اور دیگر کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ مزید چار مغویوں میں سے تین افراد بعد ازاں اپنے گھروں کو پہنچ گئے اور پولیس سے رابطہ کیا، جبکہ ایک مسافر تاحال لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مغوی، بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کا رہائشی رحیم بخش بلیدی، دورانِ اغوا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ آپریشن کے دوران ایک پولیس اہلکار صفدر عرف ہیرو چاچڑ زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی گھوٹکی کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھا گیا ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس اور رینجرز کا کہنا ہے کہ کچہ کے علاقوں میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔