کراچی(انڈس ٹربیون) سینئر صحافی اور اینکرپرسن مشتاق سرکی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی آفاق سرکی کو کراچی میں دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا ہے، جب کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں۔
مشتاق سرکی کے مطابق بدھ کی صبح ان کے بھائیوں نے فون کر کے اطلاع دی کہ آفاق سرکی منگل کی صبح تقریباً نو بجے گلستانِ جوہر سے کورنگی میں واقع اپنے دفتر کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے اور ان کا موبائل فون بھی بند ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آفاق سرکی کو منگل کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب گلستانِ جوہر بلاک 18 میں بلیز پیراڈائز فیز ٹو کے قریب ایک سلور رنگ کی سرف گاڑی میں زبردستی بٹھا کر لے جایا گیا، جب وہ تیار ہو کر دفتر جا رہے تھے۔
مشتاق سرکی نے کہا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ آفاق سرکی کو بحفاظت گھر واپس کیا جائے، بصورت دیگر وہ سخت احتجاج کے ساتھ جمعرات کی صبح سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کریں گے۔
انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے ان سے رابطہ کر کے اغوا کے واقعے کی تفصیلات حاصل کی ہیں اور جلد بازیابی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ آل سندھ لائرز ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ نے بھی قانونی جدوجہد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مشتاق سرکی کے مطابق آفاق سرکی کے اغوا میں ملوث عناصر سے متعلق شواہد سامنے آ چکے ہیں اور انہیں ایک مخصوص پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ کراچی میں خاموش تماشائی بن کر زندگی گزاریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آفاق سرکی کی طبیعت بھی خراب رہتی ہے، اگر انہیں کچھ بھی ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہو گی جنہوں نے دن دیہاڑے سرعام اغوا کیا۔