سندھ اسمبلی: مالی سال 27-2026 کا 3 ہزار 562 ارب روپے کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

کراچی(انڈس ٹربیون) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا، جس کا مجموعی حجم 3 ہزار 562 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ بجٹ میں 36 ارب روپے سے زائد خسارے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7، 7 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے 2 لاکھ 75 ہزار خاندانوں کو مفت ہوم سولر سسٹم فراہم کرنے کی اسکیم متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 980 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے ایک ہزار 18 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہیں، جبکہ وفاق کے ساتھ طے شدہ ترقیاتی پروگرام کو 575 ارب روپے سے کم کر کے 400 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب غیر ترقیاتی اخراجات میں 418 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 620 ارب روپے اور صحت کے لیے 393 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح امن و امان، جیلوں اور پولیسنگ کے لیے 216 ارب 53 کروڑ 70 لاکھ روپے، قانون و پارلیمانی امور کے لیے 27 ارب 56 کروڑ 50 لاکھ روپے، زراعت کے لیے 38 ارب 22 کروڑ روپے، آبپاشی کے لیے 41 ارب 10 کروڑ روپے اور بلدیاتی محکمے کے لیے 201 ارب 39 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسکول ایجوکیشن کے پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری شعبوں کے لیے 446 ارب 95 کروڑ 80 لاکھ روپے، کالج ایجوکیشن کے لیے 41 ارب 21 کروڑ 40 لاکھ روپے، جامعات اور تعلیمی بورڈز کے لیے 9 ارب 41 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

بجٹ میں کراچی یونیورسٹی کے لیے 3 ارب 90 کروڑ روپے، این ای ڈی یونیورسٹی کے لیے 2 ارب 83 کروڑ روپے، دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کے لیے ایک ارب 99 کروڑ روپے، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کے لیے ایک ارب 42 کروڑ روپے، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے لیے ایک ارب 39 کروڑ روپے اور آئی بی اے کراچی کے لیے 76 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی کے لیے 12 ارب روپے، ایس آئی سی وی ڈی کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، پی پی ایچ آئی کے لیے 24 ارب روپے، ای پی آئی پروگرام کے لیے 24 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3 ارب 50 کروڑ روپے اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے لیے 93 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امن و امان کے شعبے میں رینجرز کے لیے 6 ارب 2 کروڑ روپے، ایف سی کے لیے ایک ارب 41 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سندھ پولیس کے تفتیشی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے 217 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی بھرتیوں کے لیے 5 کروڑ 17 لاکھ روپے اور جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے 5 ارب 84 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بجٹ میں سندھ کے مختلف محکموں میں 864 نئی اسامیوں کی منظوری کی تجویز بھی شامل ہے۔ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر نو کے لیے 5 ارب 20 کروڑ روپے، پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے 13 ارب 30 کروڑ روپے، بینظیر ہاری کارڈ کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے اور سندھ پیپلز سپورٹ پروگرام و پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کراچی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے مجموعی طور پر 816 منصوبوں کے لیے 664 ارب 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی کے لیے 13 ارب 20 کروڑ روپے، یلو لائن کے لیے ساڑھے تین ارب روپے، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 4 ارب 37 کروڑ روپے جبکہ ایئرپورٹ سے اسٹار گیٹ تک نئے فلائی اوور اور ملیر ہالٹ سے شاہراہ فیصل تک انڈر پاس سمیت متعدد منصوبوں کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور کراچی سمیت پورے صوبے کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں