مورو (نمائندہ خصوصی) سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے گاؤں بجرانی لغاری میں مسلسل ڈیرہ ماہ سے جاری پولیس محاصرے، بےروزگاری اور غربت نے ایک اور دلخراش سانحے کو جنم دے دیا۔ مورو شہر میں لکڑیاں بیچ کر گزر بسر کرنے والے محنت کش اشفاق لغاری کی اہلیہ نے غربت سے تنگ آ کر اپنی کمسن بیٹی کو ساتھ لے کر دریائے سندھ میں چھلانگ لگا دی۔ مقامی افراد کے مطابق دونوں کی لاشوں کی تلاش تاحال جاری ہے۔

دریا میں چھلانگ لگانے والی خاتون کا نام فضیلہ لغاری اور بچی کا نام ستن عرف بھلی بتایا جا رہا ہے، خاتون کی عمر قریباً 25 سال اور بچی کی عمر قریباً ڈیڑھ سال بتائی جا رہی ہے ۔
بجرانی لغاری کو پولس کا محاصرہ کیوں ہے؟
معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ڈیڑہ ماہ سے گاؤں بجرانی لغاری پولیس محاصرے میں ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب دریائے سندھ پر متنازعہ کینالز نکالنے اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف مئی کے وسط میں مورو میں احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں قومپرست کارکن زاہد لغاری موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک اور زخمی کارکن عرفان لغاری حیدرآباد کے اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کے گھر کو آگ لگا دی تھی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ مقدمات درج کیے اور درجنوں افراد کو نامزد کیا۔
مقامی سماجی کارکن کامریڈ کومل لغاری کا کہنا ہے کہ گاؤں کو ایک ماہ سے مکمل محاصرے میں رکھا گیا ہے، جس سے سیکڑوں خاندانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اُن کے مطابق گاؤں کے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہے، روزگار کے ذرائع بند ہو چکے ہیں، اور دیہاڑی دار افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔
کامریڈ کومل نے الزام لگایا کہ پولیس آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں بلکہ ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، جس کی تازہ مثال ایک ماں کی خودکشی اور معصوم بچی کی ہلاکت ہے۔
گاؤں بجرانی لغاری سے ہی تعلق رکھنے والے سرکش لغاری نے “دی انڈس ٹربیون” سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مورو تشدد واقعے کے بعد ان کے گاؤں کے سینکڑوں افراد پر پانچ مقدمات درج کئے گئے ہیں، جو بھی شخص روزگار یا کاروبار کیلئے قریبی شہر مورو جاتا ہے تو پولس اس کو اٹھا لیتی ہے، بھاری رقم رشوت کے بعد پولس ان کو چھوڑ دیتی ہے جو لوگ رشوت دینے کی سکت نہیں رکھتے ان کا نامعلوم ملزم کے طور پر ایف آئی آرز میں پہنسایا جاتا ہے۔ جبکہ ایف آئی آرز میں نامزد لوگ ضمانت کیلئے عدالت جاتے ہیں تو پولس ان کو عدالت میں پیش ہونے سے قبل اٹھا لیتی ہے۔
سرکش لغاری کے مطابق مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی کفالت کر رہے ہیں، مگر کئی لوگ خودداری کے باعث فاقہ کشی کے باوجود کسی سے مدد نہیں مانگ رہے۔
سرکش کے مطابق بچی سمیت دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے والی خاتون کا شوہر اشفاق لغاری جنگلات سے لکڑیاں جمع کر کے شہر میں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتا تھا، مگر گاؤں کو پولیس کے خوف سے اشفاق بھی گھر تک محدود ہوگیا ہے، جس کے باعث گھر میں کئی دنوں سے فاقہ کشی کا سماں ہے۔ گھر میں تنگ دستی اور بیمار بچی کا علاج کرانے کی سکت نہ ہونے کے باعث خاتون نے انتہائی قدم اٹھایا ہے۔آخری اطلاعات تک خاتون اور بچی کی لاش نہیں مل سکیں ، سرکش کے مطابق مقامی غوطہ خوروں کی مدد سے نعشوں کی تلاش جاری ہے۔

مقامی افراد اور انسانی حقوق کے کارکنان نے حکومت سے فوری نوٹس لینے، پولیس محاصرہ ختم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔