سکھر (رپورٹ: تاج رند) سکھر بیراج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد سندھو دریا سے نامعلوم لاشیں ملنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس نے انتظامیہ اور مقامی شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک ہی دن میں بیراج کے مختلف دروازوں میں پانچ لاشیں پھنسی ہوئی دیکھی گئیں۔ روہڑی پولیس اور ریسکیو 1122 کے غوطہ خوروں نے کارروائی کرتے ہوئے صرف ایک لاش کو دریا سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
تاہم، لاش نکالنے کے معاملے پر سکھر اور روہڑی پولیس کے درمیان حدود کا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس کے باعث دیگر لاشیں دریا میں پھنسی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق:
بیراج کے دروازہ نمبر 35 میں دو لاشیں پھنسی ہوئی ہیں؛
دروازہ نمبر 27، 46 اور 62 پر ایک، ایک لاش دیکھی گئی؛
62ویں دروازے سے نکالی گئی لاش کو روہڑی تعلقہ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، لاشیں گل سڑ چکی تھیں اور اکثر کپڑوں سے محروم حالت میں پانی میں تیرتی ہوئی دکھائی دیں۔ اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کے غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے۔
سکھر بیراج کے قریب دریائے سندھ سے لاشیں ملنا اب ایک معمول کا حصہ بن چکا ہے۔ سکھر کے سینیئر صحافی ساحل جوگی کے مطابق:
سال 2021 میں سکھر بیراج کے مقام سے 46 لاشیں دریائے سندھ سے برآمد ہوئیں؛
2022 میں 17 لاشیں برآمد ہوئیں جن میں 6 خواتین کی لاشیں شامل تھیں؛
رواں سال مئی 2025 میں بھی 6 لاشیں سکھر بیراج کے مقام سے ملی تھیں۔
صحافی ساحل جوگی کے مطابق، ان لاشوں کی کوئی تحقیقات نہیں کی جاتیں اور زیادہ تر لاشیں ایدھی رضا کاروں کے ذریعے دفنائی جاتی ہیں۔
مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ سے مسلسل لاشیں ملنے کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں اور اس حساس معاملے پر پولیس و ضلعی انتظامیہ کے درمیان واضح رابطہ و تعاون قائم کیا جائے تاکہ لاشوں کی شناخت اور ممکنہ جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔