سکھر(رپورٹ: تاج رند) سکھر کے تحصیل پنوعاقل کے مقامی صحافی مجید مہر کے مطابق ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دو سگے بھائیوں سمیت ان کے تین بھتیجے قتل ہوگئے ، جبکہ ایس ایس پی سکھر نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے مقابلے کے بعد چار ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا ۔
صحافی مجید مہر نے دی انڈس ٹربیون کو بتایا کہ اتوار اور پیر کے درمیانی شب رات کو ۹ بجے کے قریب پنوعاقل سے واپس گاؤں جانے والے ان کے بڑے بھائی سےڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر موٹرسائیکل چھین لیا، ڈاکوؤں کے فرار ہوتے ہی ان کے بھائی نے ان کو فون کیا کہ ڈاکو ان سے موٹرسائکل چھین کر گاؤں کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی انہوں نے دیگر علاقہ مکینوں کے ساتھ ڈاکوؤں کا محاصرہ کیا۔ گھیرا تنگ دیکھ کر ڈاکووں نے اندھادھند فائرنگ کر دی۔ جس کے نتیجے میں دو نوجوان عبدالحفیظ اور احمد علی مہر موقع پر دم توڑ گئے جبکہ تیسرا نوجوان نثار احمد شدید زخمی ہوگیا۔ جس کو تشویشناک حالت میں سکھر کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے زخموں کے تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔

صحافی مجید مہر کے مطابق مقتولین میں تین نوجوان عبدالحفیظ، نثار احمد اور احمد علی شامل ہیں، جن میں عبدالحفیظ اور نثار احمد آپس میں سگے بھائی ہیں جو کہ رشتے میں ان کے بھتیجے لگتے ہیں۔
پولیس کا مقابلے میں چار ڈاکو ہلاک کرنے کی دعویٰ
سکھر پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے مقابلے کے بعد تین نوجوانوں کے قاتل چاروں ڈاکؤوں کو مار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پیر کی رات تھانہ مبارکپور کی حدود ٹھکراٹھو میں نامعلوم ملزمان نے 03 معصوم شہریوں کو ڈکیتی واردات کے دوران مزاحمت پر زخمی کرکے گنے کے کھیت میں فرار ہوگئے تھے۔
واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس نے بروقت پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ایس ایس پی سکھر اظہر خان خود فرنٹ لائن رہے اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ رات بھر آپریشن جاری رکھا جس دوران پولیس اور ڈاکؤوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ترجمان کے مطابق کئی گھنٹوں کے مقابلے کے بعد پولیس نے کامیاب ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے ڈکیتی کی واردات میں ملوث چار ڈاکؤوں کو مقابلے میں ہلاک کر دیا۔
پولس ترجمان کے مطابق ڈاکؤوں کی شناخت عابد بھٹی، یقین مہر، عاشق علی شیخ اور پیرو مہر کے نام سے ہوئی۔ہلاک ڈاکوؤں کے قبضے سے ایک عدد کلاشنکوف، تین عدد ٹی ٹی پستول اور 03 عدد مسروقہ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی۔ہلاک ڈاکوو ڈکیتی، چوری، پولیس مقابلوں سمیت سنگین وارداتوں میں ملوث اور پولیس کو مطلوب تھے۔
تین نوجوانوں کی ہلاکت – صحافیوں کی مذمت
سکھر کے ٹھکراٹھو کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے صحافی مجید مہر کے تین بھتیجوں کی ہلاکت پر سکھر یونین آف جرنسلٹس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے سیکٹری جنرل ساحل جوگی، امداد پھلپوٹو ودیگر نے افسوسناک واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر میں ڈاکو راج ہے، جس کے باعث اب کوئی بھی شھری محفوظ نہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کے صحافی مجید مہر کے بھتیجوں کے قاتل ڈاکوؤں کو دیگر ساتھیوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور سندھ میں امن امان کے قیام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔
سیاسی رہنماؤں کا ردعمل ـ حکومتی رٹ ختم ہوچکی
مقامی سیاسی رہنماؤں نے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے دو سگے بھائیوں سمیت تین نوجوانوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو بدامنی کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔
گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف سندھ کے سابق صوبائی نائب صدر طاھر حسین شاہ، پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما حاجی خان مہر، سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند، جنرل سیکٹری پراگ شرما سمیت متعدد سیاسی، سماجی اور صحافی رہنما مقتولیں کے گاؤں پہنچ کر ورثا سے تعزیت کی۔
دی انڈس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق صوبائی رہنما سید طاھر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ میں ڈاکو راج اور بدامنی کی ذمہ دار حکومت ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن امان کی صورتحال بہتر کرے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے لیکر کشمور تک گذشتہ اٹھارہ سال سے کوئی ایسا دن نہیں رہا جس دن کوئی اس طرح کا سندھ بڑا واقعہ پیش نہیں ہوا ہو۔ کہیں پر بھی حکومت کی رٹ نظر نہیں آتی۔
پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما حاجی خان مہر نے کہا کہ عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت پر فرض بنتا ہے کہ وہ امن امان کی بدترین صورتحال کو سنجیدہ لے اور اس کے لئے سخت اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی اور بہتر پولیسنگ سے ہی ڈاکو راج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔