ڈاکو راج کو پیپلزپارٹی کے سرداروں کی سرپرستی حاصل ہے: گھوٹکی میں عوامی تحریک کی کانفرنس

گھوٹکی(انڈس ٹربیون) عوامی تحریک ضلع گھوٹکی کی جانب سے گیلکسی ہوٹل میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکو راج، کارپوریٹ فارمنگ، آبی وسائل پر قبضے، قبائلی دہشتگردی اور غیر آئینی قوانین کے خلاف 22 نکاتی قرارداد منظور کی گئی۔

کانفرنس میں عوامی تحریک، سندھیانی تحریک، سندھ ہاری تحریک، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، عوامی ورکرز پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ، انجمن ترقی پسند مصنفین، سندھ ادبی سنگت، وکلا، صحافی، فنکار، اساتذہ، ادیب اور مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار اور جنرل سیکریٹری ساجد حسین مہیسر نےکہا کہ سندھ میں ڈاکوؤں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت پروموٹ کیا گیا ہے اور انہیں پیپلز پارٹی کے بااثر سرداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ڈاکوؤں کو افغانستان سے نیٹو اسلحہ اسمگل کر کے دیا جا رہا ہے، تاکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں بدامنی اور شہری علاقوں میں دہشت پھیلائی جا سکے۔

کانفرنس میں منظور کی گئی قراردادوں کے مطابق:

سندھ سے لاقانونیت، ڈاکو راج، سرداری نظام، کاروکاری، قبائلی دہشتگردی اور سڱ چٹی جیسے فرسودہ نظام کا خاتمہ کیا جائے۔

بانو بلوچ کے قاتل سرداروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کو مستعفی کیا جائے، جنہوں نے قاتلوں کی حمایت میں مہم چلائی۔

سندھ میں اغوا انڈسٹری اور ڈاکو راج کے خلاف سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔

صحافی نصراللہ گڈانی، جان محمد مهر، اور استاد ہدایت اللہ نندوانی سمیت تمام بے گناہ مقتولین کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

پریا کماری سمیت تمام مغویوں کو بازیاب کرایا جائے۔

کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ کی زمینوں پر قبضہ ختم کیا جائے اور زمینیں مقامی ہاریوں اور کسانوں کو دی جائیں۔

داسو، بھاشا، چناب ڈیم، سندھ بیراج، چولستان کینال سمیت تمام نئے ڈیم اور نہری منصوبے سندھ کے مفادات کے خلاف قرار دے کر منسوخ کیے جائیں۔

سندھ کے وسائل (تیل، گیس، کوئلہ، بندرگاہیں، پانی) پر صوبے کی قومی ملکیت تسلیم کی جائے۔

برسات کے پانی کی نکاسی اور ذخیرے کے لیے جدید انفرااسٹرکچر مہیا کیا جائے۔

26ویں آئینی ترمیم، بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ، میری ٹائم زونز بل، ایس آئی ایف سی، پیکا آرڈیننس اور ایف سی ری آرگنائزیشن آرڈیننس جیسے قوانین کو فوری ختم کیا جائے۔

رہنماؤں نے اعلان کیا کہ سندھ کے حقوق کے لیے مزاحمتی تحریک کو تیز کیا جائے گا اور عوامی سطح پر رابطہ مہم چلائی جائے گی۔

کانفرنس کو سندھیانی تحریک کی شمشاد بپڑ، روبینہ بھٹی، حنا جتوئی، سورٹھ بھٹ، میر منور ٹالپر، بادل ملک، محبوب گھوٹو، وجےش کمار، عمران بوزدار، ایڈووکیٹ اظہار دائودپوتہ، ایڈووکیٹ راحیل ڀٽو، ڈاکٹر وسند ارشی، ایڈووکیٹ آصف کھوسو، خالد حسين لاکو، شہزادو ڇھجن، اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے سندھ کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں